آغاز — جمعہ کے دن کچھ چہرے
جمعہ کا وقت تھا۔ میں نے اپنے علاقے کے کچھ جانے پہچانے چہرے دیکھے تو وقت جیسے چند لمحوں کے لیے رک گیا۔ یہ وہی چہرے تھے جنہیں ہم نے بچپن میں جوان، مضبوط اور زندگی سے بھرپور دیکھا تھا۔ کچھ اب جھک چکے تھے، کچھ آنکھوں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہوچکے تھے، اور کچھ اسی مٹی کے نیچے دفن تھے جس پر کبھی وہ پورے اعتماد، اختیار اور بعض اوقات غرور کے ساتھ چلا کرتے تھے۔
کچھ نام کبھی علاقے کی پہچان تھے۔ ان کی زمین، کاروبار، عہدہ یا اثرورسوخ موضوعِ گفتگو ہوتا تھا۔ آج نئی نسل ان میں سے کئی ناموں سے واقف بھی نہیں۔ وقت نے کسی کے گھر کی دیوار نہیں دیکھی، کسی کی گاڑی کا ماڈل نہیں پوچھا اور کسی کے عہدے کی مدت میں اضافہ نہیں کیا۔
اسی لمحے سوال دوسروں سے ہٹ کر میری طرف آگیا: نوید جمیل، تم بھی اسی مٹی سے پیدا ہوئے ہو۔ تمہاری عمر 33 سال ہے۔ تم بڑھاپے کا انتظار نہیں کررہے؛ تم ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہو۔ تم اپنے علاقے کے لیے کیا چھوڑ کر جاؤ گے؟
کیا میری زندگی کا حاصل صرف وہ چیزیں ہوں گی جو میرے بعد تقسیم ہوجائیں گی، یا کوئی ایسا فائدہ بھی ہوگا جو میرے بعد بڑھتا رہے گا؟
یہ کتاب اسی سوال سے پیدا ہوئی ہے۔ یہ موت کی کتاب نہیں؛ ذمہ دار زندگی کی کتاب ہے۔ یہ کسی حکومت، جماعت یا فرد کے خلاف فردِ جرم نہیں؛ یہ ایک انسان کا خود اپنے سامنے احتساب اور اپنے حصے کا کام شروع کرنے کا عہد ہے۔