آغاز — ایک دن تم نہیں ہوگے
ایک دن صبح ہوگی۔ سورج نکلے گا۔ بازار کھلیں گے۔ بچے سکول جائیں گے۔ لوگ اپنے فون دیکھیں گے۔ کسی کی میٹنگ ہوگی، کسی کی شادی، کوئی ناراض ہوگا، کوئی ہنس رہا ہوگا۔
اور آپ—اس دنیا میں نہیں ہوں گے۔
عجیب بات یہ نہیں کہ آپ مر جائیں گے۔ یہ تو ہر انسان جانتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس دنیا کو آج آپ اتنی سنجیدگی سے لے رہے ہیں، وہ آپ کے بغیر بھی چلتی رہے گی۔
وہ دفتر جہاں آج آپ کے بغیر کام رک جاتا ہے، ایک دن آپ کی جگہ کسی اور کا نام ہوگا۔ وہ فون جس میں سینکڑوں رابطے محفوظ ہیں، ایک دن بند پڑا ہوگا۔ وہ گھر جسے بنانے میں آپ نے زندگی کے سال لگا دیے، اس میں کوئی دوسرا پردے بدل رہا ہوگا۔
وہ لوگ جن کی رائے سے آپ آج خوفزدہ ہیں—ان میں سے بہت سے لوگ خود بھی نہیں ہوں گے۔
آخر ہم اتنی سی زندگی میں اتنا غیر ضروری بوجھ اٹھا کیوں رہے ہیں؟
ہم ناراضگیاں جمع کرتے ہیں۔ چیزیں جمع کرتے ہیں۔ پیسہ جمع کرتے ہیں۔ تصویریں اور منظوری جمع کرتے ہیں۔ اور اس دوران ایک چیز مسلسل خرچ ہوتی رہتی ہے جسے ہم کبھی جمع نہیں کرسکتے: وقت۔
پیسہ کھو کر دوبارہ کمایا جاسکتا ہے۔ کاروبار ختم ہو تو دوسرا بنایا جاسکتا ہے۔ رائے غلط ہو تو بدلی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ صفحہ پڑھنے میں گزرنے والا وقت واپس نہیں آتا۔
یہی اس کتاب کا موضوع ہے۔ موت نہیں—زندگی۔
کیونکہ موت سے پوچھا جانے والا سب سے اہم سوال شاید آخری دن کا نہیں: اگر وقت واقعی محدود ہے تو تم اسے کس چیز کے بدلے فروخت کررہے ہو؟
میں یہ نہیں کہوں گا: “زندگی چھوٹی ہے، جو دل چاہے کرو۔” یہ نامکمل فلسفہ ہے۔ اگر وقت محدود ہے تو ذمہ داریاں بے معنی نہیں ہوتیں؛ غلط چیز پر خرچ کیا ہوا وقت اور زیادہ مہنگا ہوجاتا ہے۔
آپ مر نہیں رہے صرف آخری دن۔ آپ کی زندگی ہر دن تھوڑی تھوڑی خرچ ہورہی ہے۔
ایک دن آپ نہیں ہوں گے۔ لیکن آج—آپ ہیں۔ پوری کتاب انہی دو جملوں کے درمیان ہے۔