NAVID LIBRARY
BOOK 20
انسان اور ٹیکنالوجی
ایک دن تم نہیں ہوگے
ہم پیسہ، چیزیں، ناراضگیاں اور منظوری جمع کرتے رہتے ہیں—اور ایک ایسی چیز مسلسل خرچ ہوتی رہتی ہے جسے دوبارہ کمایا نہیں جاسکتا…
BOOK 20 · THE NAVID COLLECTION
ایک دن تم نہیں ہوگے
اور دنیا تمہارے بغیر چلتی رہے گی
ہم پیسہ، چیزیں، ناراضگیاں اور منظوری جمع کرتے رہتے ہیں—اور ایک ایسی چیز مسلسل خرچ ہوتی رہتی ہے جسے دوبارہ کمایا نہیں جاسکتا: وقت۔
“ایک دن آپ نہیں ہوں گے۔ لیکن آج—آپ ہیں۔”
WRITER & RESEARCHERNavid Jamil
مطالعہ شروع کریں
←
TABLE OF CONTENTS
38
فہرستِ مضامین
01
آغاز — ایک دن تم نہیں ہوگے
←
02
باب 1 — وقت: وہ دولت جس کا بیلنس نظر نہیں آتا
←
03
باب 2 — زندگی سالوں میں نہیں، دنوں میں جاتی ہے
←
04
باب 3 — “بعد میں” نام کا ملک
←
05
باب 4 — مصروف ہونا اور زندہ ہونا
←
06
باب 5 — کامیابی جس کے لیے زندگی ہی نہ بچے
←
07
باب 6 — پیسہ اور وقت کا تبادلہ
←
08
باب 7 — وہ گھر جس میں رہنے کا وقت نہیں
←
09
باب 8 — بچوں کا بچپن انتظار نہیں کرتا
←
10
باب 9 — والدین بھی ہمیشہ نہیں رہیں گے
←
11
باب 10 — دوست جو آہستہ آہستہ غائب ہوگئے
←
12
باب 11 — ناراضگی: دوسرے کی غلطی، آپ کا وقت
←
13
باب 12 — Ego: ایک مہنگی چیز
←
14
باب 13 — جسم: وہ گھر جو تبدیل نہیں کیا جاسکتا
←
15
باب 14 — موت کا خوف
←
16
باب 15 — اگر آج آخری دن ہو؟ نہیں، یہ سوال ادھورا ہے
←
17
باب 16 — Regret: آخر میں کس چیز کا افسوس ہوگا؟
←
18
باب 17 — Meaning: زندگی کس چیز سے بھرتی ہے؟
←
19
باب 18 — خدمت: آپ کے بعد کیا باقی رہ سکتا ہے؟
←
20
باب 19 — چیزیں آخر میں کہاں جاتی ہیں؟
←
21
باب 20 — Digital Life: آپ کی attention کس کی ملکیت ہے؟
←
22
باب 21 — انتظار: زندگی کا چھپا ہوا حصہ
←
23
باب 22 — ایک عام شام کی قیمت
←
24
باب 23 — کافی کتنا ہے؟
←
25
باب 24 — کامیابی کے بعد بھی پیر کی صبح آتی ہے
←
26
باب 25 — آپ کی To-Do List کے باہر بھی زندگی ہے
←
27
باب 26 — اگر آپ کو ایک سال ملے
←
28
باب 27 — اگر آپ کو دس سال ملیں
←
29
باب 28 — اگر آپ کو پچاس سال ملیں
←
30
باب 29 — وقت کا Audit
←
31
باب 30 — 30 دن کا واپسی منصوبہ
←
32
باب 31 — ایک سال کا Life Budget
←
33
باب 32 — آخری خط
←
34
باب 33 — قبرستان کا سبق، زندگی کے خلاف نہیں
←
35
باب 34 — آپ کے بعد
←
36
باب 35 — آج: واحد دروازہ
←
37
اختتام — اگلا باب پڑھنے کے لیے نہیں
←
38
تحقیقی نوٹس اور ماخذ
←