NAVID LIBRARYNavid Jamil استقامت
BOOK 02 · PAGE 01

فہرست

استقامت

رشتہ، کاروبار اور ذات — مشکل وقت میں کھڑے رہنے کا اصول

یہ کتاب اس سوال کا جواب ہے کہ انسان مشکل وقت میں بھاگتا کیوں ہے، اور ٹھہرتا کیوں ہے۔ بھائی بہن کا رشتہ ہو، میاں بیوی کا بندھن ہو، باپ بیٹے کا تعلق ہو، یا کاروبار کا سفر — ہر جگہ ایک ہی اصول کارفرما ہے: جو سیکھتا ہے، وہ ٹھہرتا ہے۔ جو بھاگتا ہے، وہ بار بار ٹوٹتا ہے۔

تحریر

نوید جمیل

Executive Group of Companies

فہرست

انتساب — 3

باب اول — دو راستے — 4

باب دوم — بھائی بہن کا رشتہ — 5

باب سوم — میاں بیوی کا بندھن — 6

باب چہارم — باپ اور بیٹا — 7

باب پنجم — کاروبار میں استقامت — 8

باب ششم — مشکل وقت میں کون بھاگتا ہے، کون ٹھہرتا ہے — 9

باب ہفتم — حقیقت کا سامنا — 10

خاتمہ — آج کا فیصلہ — 11

انتساب

یہ کتاب ان سب کے نام، جو ٹوٹ کر بھی جڑے رہے۔

جنہوں نے رشتے کو الزام نہیں دیا، خود کو بدلا۔

جنہوں نے کاروبار میں نقصان کو شکست نہیں، سبق سمجھا۔

اور یہ کتاب ان کے نام بھی، جو ابھی فیصلہ نہیں کر پائے — کہ وہ بھاگیں گے یا ٹھہریں گے۔

1 / 8 · NAVID LIBRARY
BOOK 02 · PAGE 02

باب اول: دو راستے

باب اول: دو راستے

سوچیں — کیا زندگی واقعی مشکل ہے؟ یا ہم نے اسے مشکل بنا لیا ہے؟

ہر انسان کی زندگی میں ایک لمحہ آتا ہے جب زمین پاؤں تلے سے کھسک جاتی ہے۔ رشتہ ٹوٹنے کے قریب ہو، کاروبار ڈوبنے لگے، یا اپنی ذات سے ہار ماننے کا دل کرے — اس ایک لمحے میں ہر انسان دو راستوں کے درمیان کھڑا ہوتا ہے۔

ایک راستہ سیکھنے کا ہے۔ دوسرا بھاگنے کا۔

جو سیکھنے کا راستہ چنتا ہے، وہ رکتا ہے، سوچتا ہے، خود سے سوال کرتا ہے: "میں کہاں غلط تھا؟ میں کیسے بہتر بنوں؟" وہ گرتا ہے، مگر اٹھتا بھی ہے۔ اور ہر بار پہلے سے مضبوط ہو کر اٹھتا ہے۔

جو بھاگنے کا راستہ چنتا ہے، وہ الزام ڈھونڈتا ہے۔ کبھی زمانے کو، کبھی رشتے کو، کبھی قسمت کو۔ وہ نیا راستہ بدلتا رہتا ہے — نیا رشتہ، نیا کاروبار، نیا شہر — مگر خود کبھی نہیں بدلتا۔ اور اس لیے، ہر نئی جگہ پر وہی پرانا نتیجہ اس کا انتظار کرتا ہے۔

یہی وہ اصول ہے جو اس پوری کتاب کی بنیاد ہے۔ یہ اصول رشتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے، کاروبار پر بھی، اور خود انسان کی اپنی ذات پر بھی۔ آنے والے ابواب میں ہم اسی اصول کو، انہی رشتوں اور میدانوں میں، ایک ایک کر کے دیکھیں گے۔

2 / 8 · NAVID LIBRARY
BOOK 02 · PAGE 03

باب دوم: بھائی بہن کا رشتہ

باب دوم: بھائی بہن کا رشتہ

خون کا رشتہ سب سے پہلا رشتہ ہوتا ہے، اور اکثر سب سے زیادہ زخم بھی اسی رشتے میں لگتے ہیں۔

بھائی بہن کے درمیان جائیداد پر بات ہو، عزت کی بات ہو، یا وقت نہ دینے کی شکایت — چھوٹی سی بات دلوں میں دیوار بن جاتی ہے۔ اور پھر سالوں گزر جاتے ہیں، ایک ہی خاندان کا حصہ ہوتے ہوئے بھی دو اجنبیوں کی طرح۔

جو بھاگنے والا بھائی بہن ہوتا ہے، وہ کہتا ہے: "میں نے تو کوشش کر لی، اب یہ رشتہ نہیں چلے گا۔" وہ فون بند کر دیتا ہے، راستہ بدل لیتا ہے، اور دل میں ایک دیوار کھڑی کر لیتا ہے جو سالوں نہیں گرتی۔

جو ٹھہرنے والا بھائی بہن ہوتا ہے، وہ کہتا ہے: "چاہے جتنی بھی تلخی ہو، خون کا رشتہ الزام سے نہیں، صبر سے نبھتا ہے۔" وہ پہلا فون خود کرتا ہے، پہلی معافی خود مانگتا ہے، چاہے غلطی اس کی نہ بھی ہو۔

سوچیں — کیا واقعی وہ رشتہ ختم ہو گیا تھا، یا ہم نے صرف بات کرنا چھوڑ دیا تھا؟

اکثر رشتے مرتے نہیں، صرف خاموش ہو جاتے ہیں۔ اور خاموشی کو زندہ کرنے کے لیے، بس ایک لفظ کافی ہوتا ہے — "معاف کر دو۔"

3 / 8 · NAVID LIBRARY
BOOK 02 · PAGE 04

باب سوم: میاں بیوی کا بندھن

باب سوم: میاں بیوی کا بندھن

میاں بیوی کا رشتہ دو الگ دنیاؤں کا ملاپ ہے۔ دو مختلف گھر، دو مختلف عادتیں، دو مختلف سوچیں — ایک چھت تلے جمع ہو جاتی ہیں۔ اس لیے ٹکراؤ کا ہونا فطری ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ٹکراؤ کیوں ہوا، اصل سوال یہ ہے کہ ٹکراؤ کے بعد کیا ہوا۔

جو بھاگنے والا شریکِ حیات ہوتا ہے، وہ لڑائی میں جیتنا چاہتا ہے، سمجھنا نہیں۔ وہ کہتا ہے: "تم ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہو" یا "تم مجھے سمجھتے ہی نہیں۔" ہر جملہ ایک نیا زخم ہوتا ہے، اور دونوں طرف کے زخم مل کر رشتے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔

جو ٹھہرنے والا شریکِ حیات ہوتا ہے، وہ غصے کے لمحے میں بھی ایک لمحہ رک جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے: "بتاؤ، کیا بات ہے؟ میں سن رہا ہوں۔" وہ جواب دینے سے پہلے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور یہی ایک عادت ہے جو سب سے زیادہ رشتے بچاتی ہے۔

سوچیں — اگر آج رات آپ اپنی زندگی کے ساتھی کی بات، بغیر جواب دیے، صرف سن لیں، تو کیا بدل جائے گا؟

شاید کچھ نہیں بدلے گا۔ یا شاید، سب کچھ بدل جائے گا۔

4 / 8 · NAVID LIBRARY
BOOK 02 · PAGE 05

باب چہارم: باپ اور بیٹا

باب چہارم: باپ اور بیٹا

باپ اور بیٹے کا رشتہ الفاظ کا کم اور خاموشی کا زیادہ رشتہ ہوتا ہے۔ باپ محبت کرتا ہے، مگر کہہ نہیں پاتا۔ بیٹا محبت چاہتا ہے، مگر مانگ نہیں پاتا۔ اور اسی خاموشی میں سالوں کا فاصلہ بن جاتا ہے۔

جو بھاگنے والا بیٹا ہوتا ہے، وہ باپ کی سختی کو نفرت سمجھ لیتا ہے۔ وہ گھر سے دور ہو جاتا ہے، رابطہ کم کر دیتا ہے، اور دل میں یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ "باپ نے مجھے کبھی نہیں سمجھا۔" وہ یہ نہیں دیکھتا کہ سختی کے پیچھے کتنی محبت اور کتنا خوف چھپا تھا۔

جو ٹھہرنے والا بیٹا ہوتا ہے، وہ ایک دن باپ کی آنکھوں میں تھکن دیکھتا ہے، اور سمجھ جاتا ہے کہ سختی کبھی نفرت نہیں تھی — وہ ایک باپ کا خوف تھا کہ کہیں اس کا بیٹا زندگی میں پیچھے نہ رہ جائے۔ وہ باپ کے قریب جاتا ہے، اس کا ہاتھ تھامتا ہے، اور کہتا ہے: "آپ نے جو بھی کیا، میرے لیے کیا۔"

سوچیں — اگر آپ کا باپ آج آپ کے سامنے ہو، تو کیا آپ کے پاس اس سے کہنے کے لیے ایک لفظِ محبت ہے؟

اگر ہے، تو آج ہی کہہ دیں۔ کل بہت دیر ہو سکتی ہے۔

5 / 8 · NAVID LIBRARY
BOOK 02 · PAGE 06

باب پنجم: کاروبار میں استقامت

باب پنجم: کاروبار میں استقامت

کاروبار ایک آئینہ ہے جو انسان کا اصل چہرہ دکھاتا ہے۔ منافع میں تو ہر کوئی مسکراتا ہے، مگر نقصان میں انسان کا اصل کردار سامنے آتا ہے۔

جو بھاگنے والا کاروباری ہوتا ہے، نقصان ہوتے ہی الزام ڈھونڈتا ہے: "مارکیٹ خراب ہے۔" "پارٹنر دھوکے باز تھا۔" "قسمت ساتھ نہیں دیتی۔" وہ کاروبار بدلتا ہے، شعبہ بدلتا ہے، شہر بدلتا ہے — مگر اپنی سوچ نہیں بدلتا۔ اور اس لیے، ہر نئے کاروبار میں وہی پرانی ناکامی دہرائی جاتی ہے۔

جو ٹھہرنے والا کاروباری ہوتا ہے، نقصان کو سب سے پہلے اپنے سسٹم پر سوال بنا لیتا ہے: "کہاں کمی رہ گئی؟ کیا میری مارکیٹنگ کمزور تھی؟ کیا میری ٹیم کو صحیح تربیت نہیں ملی؟" وہ درد کو تحقیق میں بدل دیتا ہے۔

دنیا کی بڑی کمپنیوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ایک بات مشترک ملتی ہے — ان سب کا راستہ نقصان سے گزرا، مگر انہوں نے راستہ نہیں بدلا، اپنا طریقہ بدلا۔ ایک بہت بڑی عالمی آن لائن کمپنی نے اپنی ابتدا میں ایک زبردست مالی بحران دیکھا، جب انٹرنیٹ کی صنعت زمین بوس ہو رہی تھی۔ مگر اس کمپنی نے کاروبار بند نہیں کیا — اس نے اپنی ترسیل اور اپنے گاہک کے تجربے پر کام کیا۔ آج وہی کمپنی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔

فرق یہی ہے: بھاگنے والا کاروبار چھوڑتا ہے، ٹھہرنے والا کاروبار کو بہتر بناتا ہے۔

6 / 8 · NAVID LIBRARY
BOOK 02 · PAGE 07

باب ششم: مشکل وقت میں کون بھاگتا ہے، کون ٹھہرتا ہے

باب ششم: مشکل وقت میں کون بھاگتا ہے، کون ٹھہرتا ہے

جب گھر کے کسی پائپ سے پانی آنا بند ہو جائے، تو کوئی سمجھدار انسان پائپ کو گالی نہیں دیتا۔ وہ پائپ کھول کر دیکھتا ہے، خرابی تلاش کرتا ہے، اور اسے بدل دیتا ہے۔

مگر جب زندگی میں کوئی مشکل آتی ہے، تو اکثر انسان اسی سادہ اصول کو بھول جاتا ہے۔ وہ خرابی تلاش کرنے کے بجائے، پورے نظام کو ہی الزام دے دیتا ہے۔

مشکل وقت میں انسان کے صرف دو ردِعمل ہوتے ہیں۔ ایک، بھاگ جانا۔ دوسرا، ٹھہر کر خرابی تلاش کرنا۔

بھاگنے والا انسان مشکل کو دشمن سمجھتا ہے۔ وہ اس سے دور بھاگتا ہے، اسے نظرانداز کرتا ہے، یا اس کا الزام کسی اور پر ڈال دیتا ہے۔ اور چونکہ اصل خرابی کبھی ٹھیک نہیں ہوتی، وہی مشکل، مختلف روپ میں، بار بار اس کا پیچھا کرتی ہے۔

ٹھہرنے والا انسان مشکل کو استاد سمجھتا ہے۔ وہ رکتا ہے، سوچتا ہے، اور خود سے پوچھتا ہے: "یہ مشکل مجھے کیا سکھانے آئی ہے؟" اور جب وہ سبق سیکھ لیتا ہے، وہی مشکل دوبارہ اس کے راستے میں نہیں آتی۔

سوچیں — آپ کی زندگی کی وہ مشکل، جو بار بار مختلف شکل میں لوٹ کر آتی ہے — کیا وہ واقعی نئی مشکل ہے؟ یا وہی پرانا سبق ہے جو ابھی تک سیکھا نہیں گیا؟

7 / 8 · NAVID LIBRARY
BOOK 02 · PAGE 08

باب ہفتم: حقیقت کا سامنا

باب ہفتم: حقیقت کا سامنا

حقیقت کا سامنا کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے، اور سب سے ضروری بھی۔

ایک موجد نے بجلی کا بلب بنانے کی کوشش میں ایک ہزار سے زیادہ بار ناکامی دیکھی۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اتنی بار ناکام ہو کر کیسا محسوس ہوتا ہے، تو اس کا جواب حیران کن تھا۔ اس نے کہا کہ وہ ناکام نہیں ہوا — اس نے صرف ایک ہزار ایسے طریقے دریافت کر لیے جو کام نہیں کرتے۔ اور آخرکار وہی صبر اسے اس ایک طریقے تک لے گیا جو کام کر گیا، اور دنیا روشن ہو گئی۔

یہ صرف ایک موجد کی کہانی نہیں۔ یہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جو حقیقت کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

حقیقت کا سامنا کرنے والا انسان اپنی ناکامی کو شکست نہیں کہتا — وہ اسے معلومات کہتا ہے۔ ہر بند دروازہ اسے یہ بتاتا ہے کہ صحیح دروازہ کہیں اور ہے۔ اور اسی سوچ کے ساتھ وہ اگلا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔

مگر جو انسان حقیقت سے بھاگتا ہے، وہ پہلے بند دروازے پر ہی بیٹھ جاتا ہے، اور باقی زندگی یہ کہتے گزار دیتا ہے کہ "دروازے ہی بند ہیں۔"

فرق یہی ہے۔ ایک ہی ناکامی، ایک انسان کے لیے سبق بنتی ہے، اور دوسرے انسان کے لیے بہانہ۔

خاتمہ: آج کا فیصلہ

اس پوری کتاب کا حاصل ایک ہی جملے میں سما جاتا ہے: زندگی رشتوں سے بنتی ہے، کاروبار سے چلتی ہے، اور ذات سے سنورتی ہے۔ اور تینوں میں کامیابی کا ایک ہی راز ہے — بھاگنا نہیں، ٹھہرنا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایک اصول بیان فرمایا:

"بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلیں۔" (سورۃ الرعد، آیت 11)

یہی وہ اصول ہے جو اس پوری کتاب کی روح ہے۔ نہ رشتہ خودبخود بدلتا ہے، نہ کاروبار، نہ نصیب۔ بدلاؤ ہمیشہ اندر سے شروع ہوتا ہے۔

تو آج، ابھی، اسی وقت، تین چھوٹے فیصلے کریں:

ایک وہ رشتہ جو خاموش ہو چکا ہے، اسے آواز دیں۔

ایک وہ کمزوری جو کاروبار میں بار بار سامنے آتی ہے، اسے تسلیم کریں۔

ایک وہ عادت جو آپ کو پیچھے رکھتی ہے، اسے آج چھوڑ دیں۔

بھاگنے والے، عمر بھر وہی مقام تلاش کرتے رہتے ہیں جہاں سکون ہو۔ ٹھہرنے والے، وہیں کھڑے ہو کر، اسی مقام کو سکون بنا لیتے ہیں۔

انتخاب آپ کا ہے۔

استقامت — تحریر: نوید جمیل

8 / 8 · NAVID LIBRARY