آغاز — اگر غلطی غلط محسوس ہوتی تو دنیا بہت آسان ہوتی
ایک کمرے کا تصور کیجیے۔ اس میں دس انسان بیٹھے ہیں۔ ہر ایک ذہین ہے۔ ہر ایک کے پاس اپنی دلیل، اپنا تجربہ، اپنی یادیں اور اپنے گواہ ہیں۔ اور ہر ایک کو یقین ہے کہ حقیقت اس کے ساتھ ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ وہ دسوں ایک دوسرے سے متفق نہیں۔
اب سوال یہ نہیں کہ صحیح کون ہے۔ اصل سوال یہ ہے: غلط انسان کو اپنے غلط ہونے کا پتا کیسے چلتا ہے؟
اگر غلطی ہمیشہ غلطی کی طرح محسوس ہوتی تو انسان اسے فوراً چھوڑ دیتا۔ مگر غلط خیال بھی اندر سے بالکل صحیح محسوس ہوسکتا ہے۔
ایک بچہ ایک گھر میں پیدا ہوتا ہے، اسے ایک کہانی ملتی ہے۔ دوسرا ہزار میل دور پیدا ہوتا ہے، اسے دوسری کہانی ملتی ہے۔ دونوں بڑے ہوتے ہیں، اپنے اپنے ماحول سے الفاظ، مثالیں، خوف اور دلائل لیتے ہیں، پھر دونوں کہتے ہیں: “میں نے خود سوچ کر یہ نتیجہ نکالا ہے۔”
شاید۔ مگر اگر آپ کسی دوسری جگہ، دوسرے خاندان، دوسرے طبقے اور دوسرے تجربات میں پیدا ہوتے تو کیا آج بھی آپ کے یہی یقین ہوتے؟
میں آپ سے آپ کے عقائد چھیننے نہیں آیا۔ میں صرف یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ کا کون سا یقین حقیقت کے سامنے بھی زندہ رہتا ہے۔
ذہین انسان صرف حقیقت کے لیے دلیل نہیں بناتا؛ وہ اپنی غلطی کے دفاع میں بھی شاندار دلیل بنا سکتا ہے۔
اس کتاب کا پہلا اصول: “مجھے یقین ہے” اور “یہ سچ ہے” ایک جملہ نہیں۔