NAVID LIBRARYNavid Jamil دائرے کا قیدی
BOOK 08 · PAGE 01

تعارف و فہرست

حیاتیاتی اسارت سے نظامِ خیر کی تخلیق تک

کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان اپنے لیے کیا حاصل کرتا ہے؛ ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ وہ اپنی صلاحیت سے دوسروں کے لیے کیا آسانی، علم، موقع یا نظام پیدا کرتا ہے۔

انسان گھر بناتا ہے، رزق کماتا ہے، خاندان کی ذمہ داریاں نبھاتا ہے اور مستقبل محفوظ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ سب زندگی کے اہم اور قابلِ احترام حصے ہیں۔ لیکن کیا انسانی زندگی کا دائرہ صرف یہیں تک محدود ہے؟

یہ کتاب اسی سوال کو چھیڑتی ہے۔ اس کا مقصد ملازمت، خاندان، جائیداد یا روزمرہ ذمہ داریوں کی نفی کرنا نہیں، بلکہ یہ پوچھنا ہے کہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے بعد انسان اپنی عقل، شعور، تخلیقی صلاحیت اور اجتماعی ذمہ داری کو کس بڑے مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

’دائرے کا قیدی‘ ایک فکری دعوت ہے: inherited definitions of success کو جانچنے، اپنی زندگی کے دائرے کو پہچاننے، اور ذاتی کامیابی سے آگے بڑھ کر ایسا فائدہ پیدا کرنے کی جو انسان کی موجودگی تک محدود نہ رہے۔

فہرستِ مضامین

حصہ اول: سماجی پروگرامنگ اور کامیابی کا تیار شدہ سانچہ

حصہ دوم: جبلت، ضرورت اور انسانی امتیاز

حصہ سوم: انا، ملازمت اور معاشی آزادی

حصہ چہارم: بندگی، ذمہ داری اور خدمت

حصہ پنجم: جائیداد، وراثت اور پائیدار اثر

حصہ ششم: معمارِ نظام — خیال سے ادارے تک

1 / 7 · NAVID LIBRARY
BOOK 08 · PAGE 02

حصہ اول — سماجی پروگرامنگ اور کامیابی کا تیار شدہ سانچہ

ہماری بہت سی خواہشات ہماری اپنی ہوتی ہیں، اور بہت سی ہمیں ورثے میں ملتی ہیں۔ شعور کا آغاز دونوں میں فرق پہچاننے سے ہوتا ہے۔

انسان جب دنیا میں آتا ہے تو وہ خالی معاشرتی میدان میں نہیں آتا۔ خاندان، زبان، ثقافت، مذہبی ماحول، معاشی حالات اور تعلیمی نظام پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ یہی ماحول اسے یہ سکھاتا ہے کہ ’اچھی زندگی‘ کیسی دکھائی دیتی ہے۔

بچپن سے ہمیں عموماً ایک قابلِ فہم راستہ بتایا جاتا ہے: پڑھو، اچھے نمبر لو، کوئی ہنر یا ڈگری حاصل کرو، روزگار پیدا کرو، گھر بساؤ، خاندان کی ذمہ داریاں نبھاؤ اور مستقبل محفوظ کرو۔ اس راستے میں بذاتِ خود کوئی خرابی نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اسے واحد ممکن راستہ سمجھ لے اور کبھی یہ سوال نہ کرے کہ اس کی اپنی صلاحیت، مزاج، اقدار اور مقصد کیا ہیں۔

تعلیم: اطاعت نہیں، صلاحیت کی بیداری

تعلیم کی کمزور صورت صرف امتحان پاس کراتی ہے؛ مضبوط صورت انسان کو سوال کرنا، دلیل دیکھنا، غلطی تسلیم کرنا، تحقیق کرنا اور مسئلہ حل کرنا سکھاتی ہے۔ اس لیے پورے تعلیمی نظام کو محض ’غلام بنانے کی فیکٹری‘ کہنا حقیقت کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔ اصل تنقید وہاں بنتی ہے جہاں تعلیم تجسس اور تخلیق کے بجائے صرف یادداشت، نمبروں اور روزگار تک محدود ہو جائے۔

ڈگری ایک راستہ ہو سکتی ہے، شناخت نہیں۔ ملازمت ایک ذریعہ ہو سکتی ہے، آخری مقصد نہیں۔ کاروبار آزادی دے سکتا ہے، مگر اگر وہ بھی انسان کو وقت، خوف اور لالچ کا قیدی بنا دے تو صرف نام بدلتا ہے، قید نہیں۔

کامیابی کا مایا جال

معاشرہ کامیابی کو اکثر نظر آنے والی چیزوں سے ناپتا ہے: عہدہ، گاڑی، فون، گھر، لباس اور سماجی حیثیت۔ ان چیزوں کی اپنی افادیت ہے، مگر جب انسان اپنی قدر کو انہی سے ناپنے لگے تو وہ اپنی زندگی دوسروں کی نگاہ سے جینے لگتا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ آپ کے پاس کیا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ آپ نے اسے کیوں حاصل کیا، اس کی قیمت کیا دی، اور اس کے بعد آپ کس قسم کے انسان بنے۔

دائرے کا مسافر

صبح اٹھنا، کام کرنا، گھر لوٹنا اور ذمہ داریاں نبھانا زندگی کی حقیقت ہے۔ مگر شعوری زندگی اس میں ایک اور سوال شامل کرتی ہے: میری روزمرہ محنت کس بڑی سمت میں جمع ہو رہی ہے؟ اگر دس سال بعد بھی میں صرف وہی چکر زیادہ مہنگے پیمانے پر دہرا رہا ہوں تو کیا میں واقعی آگے بڑھا ہوں؟

دائرہ توڑنے کا مطلب ذمہ داری چھوڑنا نہیں؛ ذمہ داری کو مقصد کے ساتھ جوڑنا ہے۔

2 / 7 · NAVID LIBRARY
BOOK 08 · PAGE 03

حصہ دوم — جبلت، ضرورت اور انسانی امتیاز

ضرورت پوری کرنا زندگی کا حصہ ہے؛ انسان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ ضرورت سے آگے معنی، علم اور اجتماعی فائدہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔

فطرت میں ہر جاندار اپنی بقا کے لیے حیرت انگیز طریقے اختیار کرتا ہے۔ پرندے گھونسلے بناتے ہیں، چیونٹیاں خوراک جمع کرتی ہیں، اور جانور اپنی نسل کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان مثالوں کو انسان سے لفظی مساوات کے طور پر نہیں بلکہ ایک تمثیل کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے۔

بیا پرندہ اور انسان کا گھر

بیا پرندہ گھاس اور نباتاتی ریشوں سے پیچیدہ معلق گھونسلا بُنتا ہے۔ اس کی تعمیر فطری رویّوں، مواد کے انتخاب اور بار بار کی کوشش کا خوبصورت نمونہ ہے۔ انسان کا گھر اس سے مختلف سطح کی سماجی، تکنیکی اور ثقافتی تخلیق ہے، مگر موازنہ ہمیں ایک سوال ضرور دیتا ہے: اگر ہماری پوری زندگی صرف چار دیواری حاصل کرنے میں ختم ہو جائے تو ہماری وسیع انسانی صلاحیت کا باقی حصہ کہاں استعمال ہوا؟

چیونٹی اور مستقبل کی تیاری

چیونٹیوں کی مختلف انواع خوراک کے حصول اور ذخیرے کے مختلف طریقے اپناتی ہیں۔ یہاں سبق یہ نہیں کہ ہر چیونٹی ’سال بھر کی پلاننگ‘ انسان کی طرح شعوری حساب سے کرتی ہے؛ سبق یہ ہے کہ بقا کے نظام میں تیاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انسان اس سے آگے جا سکتا ہے: وہ صرف اپنے لیے ذخیرہ نہیں، دوسروں کے لیے علم، ادارہ اور موقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔

اولاد کی پرورش: جبلت سے زیادہ ذمہ داری

پرندے اور جانور اپنی نسل کی نگہداشت کرتے ہیں، مگر انسانی والدین کی ذمہ داری صرف خوراک اور حفاظت تک محدود نہیں۔ تربیت، اخلاق، تعلیم، جذباتی تحفظ، خودمختاری اور فیصلہ سازی کی صلاحیت بھی اس میں شامل ہیں۔

اولاد کو ’سیٹل‘ کرنا صرف شادی یا مالی بندوبست نہیں؛ بہتر وراثت یہ ہے کہ بچے سوچنا، سیکھنا، کمانا، کردار بنانا اور اپنی زندگی کے فیصلے ذمہ داری سے کرنا سیکھیں۔

انسان کا اصل امتیاز

انسان زبان، تجریدی سوچ، اجتماعی یادداشت، اخلاقی استدلال اور پیچیدہ ادارے بنانے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ اپنے تجربے کو کتاب، قانون، ٹیکنالوجی، ادارے اور ثقافت کی صورت میں اگلی نسل تک منتقل کر سکتا ہے۔

اسی لیے ’دائرے کا قیدی‘ ہونا کسی حیاتیاتی ضرورت کا نام نہیں؛ یہ اس حالت کا استعارہ ہے جس میں انسان اپنی وسیع صلاحیت کے باوجود صرف فوری ضروریات کے چکر تک محدود ہو جائے۔

3 / 7 · NAVID LIBRARY
BOOK 08 · PAGE 04

حصہ سوم — انا، ملازمت اور معاشی آزادی

غلامی اور ملازمت ایک چیز نہیں؛ اصل سوال اختیار، وقار، مقصد اور انتخاب کا ہے۔

انسانی انا ایک عجیب تضاد رکھتی ہے۔ ہم اپنے عہدے، آمدن اور سماجی مقام سے شناخت بناتے ہیں، مگر کبھی کبھی یہی شناخت ہمیں ایسے فیصلوں سے باندھ دیتی ہے جنہیں ہم اندر سے درست نہیں سمجھتے۔

ملازمت کو درست زاویے سے دیکھنا

ملازمت کو بذاتِ خود غلامی کہنا نہ منصفانہ ہے نہ حقیقت پسندانہ۔ ایک اچھا روزگار انسان کو مہارت، استحکام، تجربہ، ٹیم ورک اور خدمت کا موقع دے سکتا ہے۔ ڈاکٹر، استاد، انجینئر، محقق، سرکاری ملازم اور ہزاروں دوسرے پیشے اجتماعی نظام کو چلانے کے لیے ضروری ہیں۔

مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں انسان کے پاس انتخاب کی گنجائش ختم ہو، استحصال معمول بن جائے، کام اس کی صحت اور وقار کو مسلسل تباہ کرے، یا وہ صرف سماجی حیثیت کے خوف سے ایسا راستہ جاری رکھے جسے وہ بدل سکتا ہے مگر بدلنے کی تیاری نہیں کرتا۔

سنہری زنجیریں

قرض، غیر ضروری طرزِ زندگی اور مسلسل بڑھتے اخراجات بعض اوقات انسان کی معاشی آزادی کم کر دیتے ہیں۔ زیادہ آمدن ہمیشہ زیادہ آزادی نہیں دیتی؛ اگر ہر اضافی آمدن کے ساتھ اضافی قرض اور اضافی دکھاوا جڑ جائے تو انسان کی فیصلہ سازی محدود ہو سکتی ہے۔

اس کا حل جذباتی طور پر نوکری چھوڑ دینا نہیں۔ حل یہ ہے کہ مالی نظم پیدا کیا جائے، مہارت بڑھائی جائے، ہنگامی فنڈ بنایا جائے، متبادل آمدن یا بہتر مواقع پر تحقیق کی جائے اور پھر سوچا سمجھا فیصلہ کیا جائے۔

انا سے خودداری تک

انا کہتی ہے: لوگ مجھے بڑا سمجھیں۔ خودداری کہتی ہے: میرا فیصلہ میری اقدار کے مطابق ہو۔ انا عہدے سے طاقت لیتی ہے؛ خودداری کردار سے۔

معاشی آزادی کا بہترین تصور یہ نہیں کہ انسان کسی کے ساتھ کام ہی نہ کرے، بلکہ یہ کہ وہ خوف، دکھاوے اور بے اختیاری کے بجائے شعوری انتخاب کے ساتھ کام کرے۔

4 / 7 · NAVID LIBRARY
BOOK 08 · PAGE 05

حصہ چہارم — بندگی، ذمہ داری اور خدمت

عبادت انسان کو دنیا سے کاٹنے کے بجائے اس کے کردار، عدل، امانت اور خدمت میں ظاہر ہونی چاہیے۔

جب انسان زندگی کی سطحی دوڑ سے تھک کر روحانی معنی تلاش کرتا ہے تو عبادت اسے مرکز، نظم اور جواب دہی دیتی ہے۔ لیکن مذہبی زندگی کو صرف ذاتی نجات یا چند ظاہری اعمال تک محدود کرنا بھی ایک ادھورا تصور بن سکتا ہے۔

اسلامی روایت میں عبادات کے ساتھ حقوق العباد، عدل، امانت، علم، خیرات، حسنِ سلوک اور کمزور کی مدد بھی بنیادی اخلاقی ذمہ داریاں ہیں۔ اس لیے نماز اور ذکر کو کم تر سمجھنا درست نہیں؛ زیادہ مکمل بات یہ ہے کہ عبادت کا اثر انسان کے معاملات اور کردار میں بھی نظر آنا چاہیے۔

سجدے سے معاشرے تک

اگر عبادت انسان کو زیادہ دیانت دار، ذمہ دار، رحم دل اور منصف نہیں بنا رہی تو اسے اپنے باطن کا جائزہ لینا چاہیے۔ روحانیت کا امتحان صرف تنہائی میں نہیں، لین دین، وعدے، ملازم کے حق، پڑوسی کے حق اور کمزور انسان کے ساتھ رویّے میں بھی ہوتا ہے۔

خلافت کا مفہوم: امانت اور ذمہ داری

قرآن میں انسان کے زمین پر خلیفہ ہونے کا ذکر ذمہ داری، امانت اور اخلاقی جواب دہی کے بڑے تصور سے جڑا ہوا ہے۔ اسے یہ معنی دینا کہ انسان خدا کی صفات کو اپنی طرف منسوب کرے، احتیاط طلب بات ہے۔ زیادہ محفوظ فہم یہ ہے کہ انسان زمین پر عدل، اصلاح، علم، امانت اور خیر کے لیے ذمہ دار مخلوق ہے۔

اسی ذمہ داری کا ایک جدید اظہار یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص تعلیم کا ادارہ قائم کرے، روزگار کے مواقع پیدا کرے، ٹیکنالوجی سے مسئلہ حل کرے، تحقیق کرے یا ایسا سماجی نظام بنائے جو لوگوں کی زندگی آسان کرے۔

نظامِ خیر

نظامِ خیر سے مراد ایسا منظم طریقہ، ادارہ یا نیٹ ورک ہے جو جائز، اخلاقی اور قابلِ پیمائش انداز میں لوگوں کے لیے مستقل فائدہ پیدا کرے۔ خیر صرف نیت سے نہیں بنتا؛ شفافیت، اہلیت، احتساب اور پائیداری بھی ضروری ہیں۔

5 / 7 · NAVID LIBRARY
BOOK 08 · PAGE 06

حصہ پنجم — جائیداد، وراثت اور پائیدار اثر

جائیداد وراثت ہو سکتی ہے؛ مگر علم، کردار اور مضبوط ادارہ بھی وراثت ہیں۔

گھر، زمین، بچت اور مالی تحفظ انسانی زندگی میں حقیقی اہمیت رکھتے ہیں۔ خاندان کے لیے محفوظ رہائش اور مالی استحکام پیدا کرنا کوئی معمولی کامیابی نہیں۔ لیکن اگر انسان اپنی پوری شناخت صرف ملکیت کے حجم سے بنائے تو موت کے بعد اس ملکیت کا کنٹرول لازماً دوسروں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔

مادی وراثت کی حد

جائیداد نسلوں کو سہارا دے سکتی ہے، مگر اسے سنبھالنے والے کردار، علم اور نظام نہ ہوں تو بڑی سے بڑی دولت تقسیم، ضائع یا تنازع کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس لیے پائیدار وراثت صرف اثاثہ نہیں؛ اثاثہ سنبھالنے کی صلاحیت بھی ہے۔

سسٹم کیا ہے؟

سسٹم ایسا منظم ڈھانچہ ہے جس میں مقصد، طریقۂ کار، ذمہ داریاں، وسائل، تربیت، پیمائش اور جانشینی واضح ہوں۔ صرف کمپنی کا نام یا ویب سائٹ بنا دینا سسٹم نہیں۔ سسٹم وہ ہے جو بانی کی ہر لمحہ موجودگی کے بغیر بھی معیار کے ساتھ کام جاری رکھ سکے۔

دنیا کے بڑے ادارے عموماً کسی ایک فرد کے ذہن سے شروع ضرور ہوتے ہیں، مگر ان کی پائیداری ٹیموں، قواعد، سرمایہ، تحقیق، جانشینی اور مسلسل اصلاح سے بنتی ہے۔ اسی لیے کسی ادارے کو صرف ایک مشہور شخصیت کی واحد تخلیق کہنا اکثر تاریخی حقیقت کو بہت سادہ کر دیتا ہے۔

زندہ وراثت

ایک اسکول جو معیاری تعلیم دیتا رہے، ایک تربیتی نظام جو نوجوانوں کو ہنر دیتا رہے، ایک تحقیقاتی ادارہ جو علم پیدا کرتا رہے، یا ایک کاروبار جو اخلاقی طریقے سے روزگار پیدا کرتا رہے — یہ سب ایسی وراثتیں ہو سکتی ہیں جن کا اثر عمارت سے زیادہ دیر تک باقی رہے۔

اصل مقصد موت کو لفظی طور پر شکست دینا نہیں؛ ایسا مثبت اثر چھوڑنا ہے جو ہماری زندگی سے آگے بھی فائدہ دیتا رہے۔

6 / 7 · NAVID LIBRARY
BOOK 08 · PAGE 07

حصہ ششم — معمارِ نظام

بڑا نظام بڑے دعوے سے نہیں بنتا؛ ایک واضح مسئلے کے چھوٹے، قابلِ پیمائش اور بار بار بہتر کیے جانے والے حل سے بنتا ہے۔

یہ کتاب کا عملی حصہ ہے۔ اگر انسان اپنے دائرے کو پہچان چکا ہے اور صرف تنقید کے بجائے تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اسے خیال کو طریقۂ کار میں، اور طریقۂ کار کو نظام میں بدلنا ہوگا۔

قدم 1: اپنا دائرہ پہچانیں

ایک ہفتہ اپنے وقت، آمدن، اخراجات، ذمہ داریوں اور فیصلوں کا مشاہدہ کریں۔ لکھیں کہ آپ کن کاموں میں مجبور ہیں، کن میں آزاد ہیں، اور کن پابندیوں کو آپ نے صرف عادت یا سماجی خوف کی وجہ سے قبول کیا ہوا ہے۔

قدم 2: اپنی صلاحیت اور حدود جانیں

صرف یہ نہ پوچھیں کہ مجھے کیا پسند ہے۔ یہ بھی دیکھیں کہ میں کس کام میں قابلِ اعتماد نتیجہ دیتا ہوں، لوگ کس مسئلے کے لیے میرے پاس آتے ہیں، مجھے کن مہارتوں کی کمی ہے اور مجھے کس ٹیم کی ضرورت ہوگی۔

قدم 3: ایک حقیقی مسئلہ منتخب کریں

مسئلہ آپ کے ذہن میں نہیں، لوگوں کی زندگی میں موجود ہونا چاہیے۔ کم از کم دس سے بیس متعلقہ لوگوں سے بات کریں۔ ان سے پوچھیں کہ مسئلہ کتنی بار پیش آتا ہے، اس کی موجودہ قیمت کیا ہے اور وہ آج اسے کیسے حل کرتے ہیں۔

قدم 4: چھوٹا حل آزمائیں

پہلے پورا ادارہ نہ بنائیں۔ ایک چھوٹا pilot چلائیں۔ مثال کے طور پر اگر مقصد نوجوانوں کو مہارت دینا ہے تو پہلے محدود گروپ کے ساتھ مختصر تربیتی پروگرام آزمائیں اور نتائج ناپیں۔

قدم 5: طریقۂ کار لکھیں

جو کام کامیاب ہوا اسے SOP میں تبدیل کریں: کون کیا کرے گا؟ کب کرے گا؟ معیار کیا ہوگا؟ غلطی کی صورت میں کیا ہوگا؟ کامیابی کیسے ناپی جائے گی؟

قدم 6: ٹیم اور جانشینی بنائیں

اگر ہر فیصلہ صرف بانی کر سکتا ہے تو ادارہ ابھی سسٹم نہیں بنا۔ ذمہ داریاں تقسیم کریں، لوگوں کو تربیت دیں، اختیار کی حدود واضح کریں اور ایسا دوسرا درجۂ قیادت بنائیں جو آپ کی غیر موجودگی میں کام سنبھال سکے۔

قدم 7: مالی پائیداری

خیر کا نظام بھی وسائل مانگتا ہے۔ آمدن، اخراجات، reserves اور funding model واضح کریں۔ ایسا ماڈل زیادہ مضبوط ہوتا ہے جو خدمت کے ساتھ اپنی بنیادی لاگت بھی ذمہ داری سے پوری کر سکے۔

قدم 8: ٹیکنالوجی اور خودکاری

Automation وہاں استعمال کریں جہاں بار بار ہونے والا کام مشین بہتر کر سکتی ہو: ریکارڈ، reminders، reporting، workflow اور data analysis۔ مگر انسانی فیصلے، اخلاقی نگرانی اور حساس معاملات کو اندھی automation کے حوالے نہ کریں۔

قدم 9: احتساب اور پیمائش

صرف یہ نہ کہیں کہ ہم لوگوں کی زندگی بدل رہے ہیں۔ پیمائش کریں: کتنے لوگوں نے تربیت مکمل کی؟ کتنے روزگار تک پہنچے؟ کتنے چھ ماہ بعد بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں؟ شکایات کتنی ہیں؟ معیار کہاں کمزور ہوا؟

قدم 10: بانی سے آزاد ادارہ

آخری امتحان یہ ہے کہ آپ کچھ عرصہ پیچھے ہٹیں اور دیکھیں کہ نظام چلتا ہے یا نہیں۔ جہاں نظام رکے، وہاں شخصیت نہیں بلکہ process مضبوط کریں۔

معمارِ نظام کی صفات

  • دور اندیشی — آج کے فیصلے کے طویل مدتی اثر کو دیکھنا۔
  • عاجزی — اپنی غلطی تسلیم کرنا اور data سے سیکھنا۔
  • خودمختاری — سوچ میں آزادی، مگر تعاون سے گریز نہیں۔
  • خدمت — نظام کا فائدہ صرف بانی تک محدود نہ ہو۔
  • احتساب — اختیار کے ساتھ جواب دہی۔
  • استقامت — طریقہ بدلنا، مگر جائز مقصد کو جلد نہ چھوڑنا۔
  • جانشینی — اپنے بعد اہل لوگوں کو ذمہ داری منتقل کرنے کی تیاری۔

حتمی پیغام

دائرے سے نکلنے کا مطلب دنیا، خاندان یا ذمہ داریوں سے بھاگنا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی بنیادی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اپنی اضافی صلاحیت کو بھی بیدار کرے۔ وہ صرف اپنے لیے گھر نہ بنائے؛ جہاں ممکن ہو دوسروں کے لیے راستہ بھی بنائے۔ صرف دولت نہ جمع کرے؛ علم، کردار، مواقع اور ادارے بھی پیدا کرے۔

دائرے کے قیدی مت بنیے — اپنے شعور، کردار اور صلاحیت کو نظامِ خیر کی تعمیر میں استعمال کیجیے۔

— نوید جمیل

7 / 7 · NAVID LIBRARY