آغاز — بازار کی ایک شام
آج شام میں بازار سے گزرا۔ کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا تھا، کوئی جلسہ نہیں تھا، کوئی حادثہ نہیں تھا، کوئی ایسی خبر نہیں تھی جو اگلے دن اخبار کی سرخی بنتی۔ میں نے صرف لوگوں کو کام کرتے دیکھا۔ مگر بعض اوقات پوری زندگی بدل دینے والا سوال کسی بڑے واقعے سے نہیں، ایک معمولی منظر سے پیدا ہوتا ہے۔
ایک طرف دہی بیچنے والا بیٹھا تھا۔ کچھ فاصلے پر ایک چھوٹی سی ریڑھی تھی۔ ایک تنگ سی دکان میں ایک شخص اپنے سامان کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ایک حمام میں کئی لوگ ایک ہی جگہ اپنی باری، اپنے گاہک اور اپنے دن کے چند سو یا چند ہزار روپے کے انتظار میں تھے۔ کسی کی عمر پینتیس کے قریب تھی، کسی کی چالیس، کسی کی پچاس۔ ان کے ہاتھ کام کر رہے تھے، جسم مصروف تھے، وقت گزر رہا تھا۔
پھر میرے ذہن میں ایک سوال آیا: کیا یہ لوگ ترقی کر رہے ہیں، یا صرف اپنی زندگی کو روزانہ دوبارہ شروع کر رہے ہیں؟
یہ سوال کسی کی محنت کی توہین نہیں۔ حلال رزق کے لیے کیا جانے والا ہر جائز کام عزت رکھتا ہے۔ مسئلہ دہی بیچنا، حجامت کرنا، مزدوری کرنا یا ریڑھی لگانا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک انسان دس، پندرہ یا بیس سال مسلسل ایک کام کرے اور اس کے کام کا طریقہ، آمدن، مہارت، گاہک، اختیار اور مستقبل تقریباً وہی رہیں تو اس مسلسل محنت نے اس کی زندگی کا نظام کیوں نہیں بدلا؟
ہم اکثر کامیابی کے بارے میں کہتے ہیں: محنت کرو۔ لیکن یہ جملہ آدھا ہے۔ محنت ضروری ہے، مگر ہر محنت ترقی پیدا نہیں کرتی۔ کچھ محنت صرف موجودہ حالت کو برقرار رکھتی ہے۔ کچھ محنت قرض اتارتی ہے۔ کچھ محنت اگلے دن کا کھانا لاتی ہے۔ اور کچھ محنت ایسی ہوتی ہے جو آج کے ساتھ کل بھی بناتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آپ کتنے مصروف ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ آپ کی مصروفیت آپ کو کہاں لے جا رہی ہے۔
یہ کتاب انہی لوگوں کے خلاف نہیں، انہی لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ کہنا نہیں کہ چھوٹا کام چھوڑ دو؛ اس کا مقصد یہ پوچھنا ہے کہ چھوٹے کام کو بڑا نتیجہ دینے والا نظام کیسے بنایا جائے۔ ایک دہی بیچنے والا برانڈ کیوں نہیں بن سکتا؟ ایک حجام اپنی سروس، تربیت اور ٹیم کیوں نہیں بڑھا سکتا؟ ایک مستری عام مزدوری سے متخصص ٹیکنیشن کیوں نہیں بن سکتا؟ ایک دکاندار اپنی دکان کو ڈیجیٹل آرڈر، ڈیلیوری اور منظم ریکارڈ سے کیوں نہیں بڑھا سکتا؟
اگر کوئی جواب ہے، تو یہ کتاب اسی جواب کی تلاش ہے۔