آغاز — ایک سوال جو ہر خاندان سے پوچھا جانا چاہیے
ایک باپ کے چار بچے ہیں۔ دو بیٹے، دو بیٹیاں۔ باپ نے محنت سے رزق کمایا۔ ماں نے اپنی استطاعت کے مطابق بچوں کو ادب، سچائی، حیا اور رشتوں کی قدر سکھائی۔ سب ایک ہی چھت کے نیچے بڑے ہوئے، ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے اور ایک ہی والدین کی نصیحتیں سنتے رہے۔ وقت گزرا تو ایک بیٹا اپنی دیانت کے لیے پہچانا گیا، دوسرا فائدے کے لیے سچ اور جھوٹ کے درمیان راستے بنانے لگا۔ ایک بیٹی تعلقات اور ذمہ داری میں مثال بنی، دوسری نے زندگی کے تجربات اور اپنے فیصلوں کے نتیجے میں بالکل مختلف راستہ اختیار کرلیا۔
لوگوں نے حیرت سے پوچھا: “ماں باپ تو بڑے اچھے ہیں، پھر یہ بچہ ایسا کیسے ہوگیا؟”
یہ کتاب اسی سوال سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر خون ایک، گھر ایک اور بنیادی تربیت ایک تھی تو کردار ایک کیوں نہیں ہوئے؟ کیا انسان صرف والدین کی تربیت کا نتیجہ ہے، یا اسے مزاج، صحبت، معاشرہ، محرومی، محبت، طاقت، پیسہ اور بالآخر اس کے اپنے فیصلے بھی بناتے ہیں؟
ایک ہی گھر میں پیدا ہونا، ایک جیسا انسان بننے کی ضمانت نہیں۔