ابتدائیہ — کسی کے حصے میں محل، کسی کے حصے میں مٹی کیوں؟
تحریر: نوید جمیل
“انسان اپنے آغاز کا انتخاب نہیں کرتا، مگر بہت سے مواقع پر اپنے اگلے قدم کا ذمہ دار ضرور ہوتا ہے۔”
ایک بچہ محل میں آنکھ کھولتا ہے۔ اس کے رونے سے پہلے اس کی ضروریات پوری ہوچکی ہوتی ہیں۔ اسی لمحے ایک دوسرا بچہ ایسی جھونپڑی میں پیدا ہوتا ہے جہاں اس کی ماں کو اگلے دودھ کی فکر ہوتی ہے۔ دونوں نے اپنا گھر، خاندان، ملک اور نقطۂ آغاز منتخب نہیں کیا—پھر ایک کا سفر آسان اور دوسرے کا آغاز ہی آزمائش کیوں ہے؟
یہ سوال صرف دولت کا نہیں؛ یہ خدا کے انصاف، انسان کی آزادی، تقدیر، محنت اور دنیا کے نظام کا سوال ہے۔ اگر سب کچھ لکھا جاچکا ہے تو کوشش کیوں؟ اگر سب کچھ محنت سے ہے تو سب سے زیادہ محنت کرنے والا مزدور سب سے زیادہ امیر کیوں نہیں؟
یہ کتاب غربت کو تقدیر کہہ کر قبول کرنے یا دولت کو کامیابی کا آخری ثبوت بنانے نہیں آئی۔ یہ اس باریک مقام تک جانے کی کوشش ہے جہاں اللہ کی تقسیم، انسانی کوشش، معاشرتی ناانصافی اور آخرت کا حساب ایک ہی تصویر کے مختلف حصے بن جاتے ہیں۔