ابتدائیہ — ایک انسان آخر پوری دنیا کیسے بن جاتا ہے؟
تحریر: نوید جمیل
“وہ ایک انسان نہیں گیا تھا؛ اُس کے ساتھ وہ تمام جگہیں خالی ہوگئی تھیں جہاں میں نے اپنی زندگی رکھ دی تھی۔”
کبھی انسان کسی کے جانے کے بعد حیران رہ جاتا ہے کہ میرے ساتھ آخر ہوا کیا ہے؟ شہر وہی ہے، گھر وہی ہے، کاروبار وہی ہے، فون وہی ہے، لوگ بھی موجود ہیں—پھر زندگی خالی کیوں محسوس ہورہی ہے؟
شاید اس لیے کہ جانے والا صرف ایک شخص نہیں رہا تھا۔ وہ اچھی خبر سنانے کی جگہ، پریشانی بانٹنے کی جگہ، فارغ وقت کی عادت، حوصلے کا ذریعہ، مستقبل کا تصور اور روزمرہ کے درجنوں چھوٹے راستوں کا مشترک مرکز بن چکا تھا۔
یہ کتاب کسی کو بھولنے کا نسخہ نہیں۔ یہ اس نقشے کو دیکھنے کی کوشش ہے جس پر تعلق بنتا، گہرا ہوتا، کبھی dependency میں بدلتا، ٹوٹتا اور پھر انسان کو اپنے بارے میں ایسے سوالات کے سامنے کھڑا کردیتا ہے جن سے وہ پہلے کبھی نہیں گزرا تھا۔
اور جب یہی نقشہ سمجھ آجائے تو ایک دوسرا اخلاقی سوال پیدا ہوتا ہے: انسانی دل کو سمجھنے کا علم ہمیں آزاد کرے گا، یا ہم اسے دوسروں کی آزادی پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کریں گے؟