آغاز — نظامِ احساس
بزنس، رشتوں، خود شناسی، ڈائریکشن اور نسلوں تک منتقل ہونے والے رویّوں کو ایک مربوط نظام میں سمجھنے کی کوشش
احساس کو نظام میں بدلو — ورنہ نظام تمہیں بے حس کر دے گا۔
زندگی صرف فیصلوں کا مجموعہ نہیں؛ یہ ان نظاموں کا نتیجہ بھی ہے جن کے تحت ہم فیصلے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کاروبار میں بار بار وہی غلطی دہراتا ہے اور رشتوں میں بھی اسی pattern کا شکار ہو جاتا ہے۔
نظامِ احساس کا مرکزی سوال یہ ہے: کیا ہم اپنی زندگی کو سمجھ کر چلا رہے ہیں، یا صرف ماحول، روایت، خوف اور دوسروں کی نقل میں ردِعمل دیتے جا رہے ہیں؟
یہ کتاب بزنس اور رشتوں کو ایک دوسرے کی مثال بنا کر خود شناسی، درست سمت، ذمہ داری اور نسلوں تک پہنچنے والے اثرات کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔