ابتدائیہ — یہ کتاب یاد کی نہیں، احساس کی ہے
تحریر: نوید جمیل
“کچھ کتابیں آنکھوں سے پڑھی جاتی ہیں، کچھ زخموں سے۔”
کچھ کتابیں پڑھی جاتی ہیں اور کچھ انسان اپنے زخموں سے پڑھتا ہے۔ یہ کتاب دوسری قسم کی ہے۔ اگر آپ کی زندگی میں کبھی کوئی ایسا شخص آیا ہے جس کے جانے کے بعد بھی اس کی موجودگی ختم نہیں ہوئی، تو شاید ان صفحات میں آپ کو اپنے ہی دل کی آواز سنائی دے۔
ہم اکثر کہتے ہیں: “مجھے وہ بہت یاد آتا ہے۔” مگر ہر تعلق کے لیے لفظ یاد کافی نہیں ہوتا۔ یاد ذہن کا عمل ہے؛ انسان مصروف ہو تو کچھ دیر کے لیے یاد رک بھی سکتی ہے۔ مگر بعض لوگ ذہن سے آگے نکل جاتے ہیں۔ وہ ہماری عادتوں، فیصلوں، دعاؤں، خاموشیوں اور شخصیت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ پھر انہیں بھلانے کا سوال ہی غلط ہو جاتا ہے، کیونکہ آپ جسے باہر تلاش کر رہے ہوتے ہیں وہ آپ کے اندر رہ رہا ہوتا ہے۔
یہ کتاب کسی ایک رشتے کی کہانی نہیں۔ وہ شخص آپ کا بچہ ہو سکتا ہے، ماں یا باپ، بہن یا بھائی، دوست، ہم سفر، استاد، کاروباری ساتھی، یا کوئی ایسا تعلق جس کے لیے دنیا کے پاس مناسب نام نہ ہو۔ نام بدل جاتے ہیں، مگر گہری وابستگی کا درد ایک جیسی زبان بولتا ہے۔
میں اس درد کو خوبصورت بنانے نہیں آیا۔ میں صرف اسے لفظ دینا چاہتا ہوں۔ کیونکہ بعض اوقات انسان کا سب سے بڑا سکون یہ نہیں ہوتا کہ کوئی اس کا مسئلہ حل کر دے؛ بس کوئی اس احساس کو صحیح نام دے دے جسے وہ برسوں سے اکیلا اٹھائے پھر رہا ہے۔