راز کا شکایت
راز کا شکایت
شکایت کا راز
ایک جملہ، ایک گھر، ایک معاشرہ
تحریر
نوید جمیل
ڈسکرپشن
شام کے سات بجے ہیں۔ باپ دن بھر کی تھکن لیے گھر میں داخل ہوتا ہے۔ دروازہ کھلتے ہی آواز آتی ہے:
دودھ ختم ہو گیا ہے، پیمپر بھی نہیں ہے، آپ کو کچھ یاد ہی نہیں رہتا۔
یہ ایک عام سا جملہ ہے۔ مگر اگلے دس سیکنڈ میں جو ہوتا ہے، وہ گھر کا پورا ماحول بدل سکتا ہے۔ باپ کا
دماغ اسے شکایت نہیں، حملہ سمجھتا ہے۔ جواب میں غصہ آتا ہے۔ بچہ کونے میں کھڑا دیکھ رہا ہوتا ہے،
اور بغیر کسی کتاب کے سیکھ رہا ہوتا ہے کہ غصے کا جواب غصہ ہی ہے۔ یہی چھوٹے چھوٹے جھگڑے،
سالوں میں جمع ہو کر، کئی بار طلاق کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
یہی منظر بازار میں دہرایا جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے آپ کا فروٹ ٹھیک نہیں، ریٹ زیادہ ہے، گوشت صحیح
نہیں دے رہے۔ بات صرف اتنی سی ہوتی ہے۔ مگر دکاندار کا دفاعی نظام اسے حملہ سمجھ لیتا ہے۔ لہجہ
اونچا ہوتا ہے، گالیاں نکلتی ہیں، اور کبھی کبھار بات ہاتھا پائی اور جان لیوا حد تک پہنچ جاتی ہے۔ ایک
شکایت، جو صرف تول یا ریٹ کی بات تھی، دو خاندانوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔
اور پھر ایک تیسرا میدان ہے، اداروں کا۔ جب ایک عام شہری کسی سرکاری افسر، تھانے یا عدالت میں