آغاز — شاید یہ کتاب آپ کے بارے میں ہے
ایک لمحے کے لیے اپنی زندگی روک دیجیے۔
اپنا نام ذہن میں لائیے۔ یہ نام آپ نے نہیں چُنا تھا۔ اپنی زبان سوچیے۔ یہ بھی آپ نے نہیں چُنی تھی۔ وہ گھر جس میں آپ پیدا ہوئے، خاندان، شہر، معاشی حالت، رسمیں، خوف، تعریفیں جن پر آپ خوش ہونا سیکھے، اور وہ باتیں جن پر شرمندہ ہونا سیکھے—ان میں سے تقریباً کچھ بھی آپ کے انتخاب سے شروع نہیں ہوا تھا۔
آپ دنیا میں آئے تو یہاں ایک مکمل نظام پہلے سے موجود تھا۔ لوگوں نے بتایا: یہ اچھا ہے، یہ برا ہے، یہ عزت ہے، یہ بے عزتی ہے، یہ کامیابی ہے، یہ ناکامی ہے۔ آپ اتنے چھوٹے تھے کہ سوال نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے آپ نے بہت کچھ جانچ کر نہیں، اعتماد کر کے قبول کیا۔
پھر ایک دن آپ بڑے ہوگئے۔ اور جو خیالات کبھی باہر سے آپ کے اندر آئے تھے، ان میں سے کچھ آپ کو اپنی آواز محسوس ہونے لگے۔ آپ نے کہنا شروع کردیا: “میں ایسا ہی ہوں۔”
مگر شاید زندگی کا سب سے خطرناک سوال یہی ہے: کیا واقعی؟
یہ کتاب والدین، خاندان، مذہب، تعلیم، شادی، کاروبار یا معاشرے کے خلاف نہیں۔ یہ صرف ایک چیز کے خلاف ہے: بے خبری۔
جو انسان جانچنے کے بعد کسی روایت کو اختیار کرتا ہے، وہ اس کا انتخاب ہے۔ جو سمجھنے کے بعد ذمہ داری قبول کرتا ہے، وہ اس کا کردار ہے۔ لیکن جس نے کبھی سوال ہی نہیں کیا—اسے کیسے معلوم کہ وہ زندگی گزار رہا ہے، یا صرف زندگی دہرا رہا ہے؟
اس کتاب میں ہم ایک ایک چیز واپس میز پر رکھیں گے: شناخت، کامیابی، ناکامی، تعلیم، کام، پیسہ، تعلقات، خوف، خواہشیں، اور آخر میں—آپ خود۔
بغیر عہدے کے۔ بغیر دولت کے۔ بغیر خاندان کے نام کے۔ بغیر لوگوں کی تعریف کے۔ بغیر اس جواب کے کہ آپ کیا کرتے ہیں۔
اگر یہ سب آپ سے لے لیا جائے، تو پیچھے کون رہ جاتا ہے؟
اگر چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئے ہیں—تو شاید ہم صحیح دروازے تک پہنچ گئے ہیں۔
اس کتاب کا وعدہ یہ نہیں کہ آخری صفحے پر زندگی کا مطلب مل جائے گا۔ وعدہ صرف اتنا ہے: ممکن ہے آخری صفحے تک آپ کے پاس وہ سوال موجود ہو جس سے آپ مزید جھوٹ بول نہ سکیں۔
کیونکہ جواب انسان کو مطمئن کرتا ہے۔ بعض سوال انسان کو بدل دیتے ہیں۔