تجربہ نمبر 1 – Diary CEO
1
تجربہ نمبر 1 – Diary CEO
عنوان: ڈائریکشن سیدھی ہو تو فاصلے خود کم ہو جاتے ہیں
زندگی کے 30 سال میں نے محنت میں گزارے، لیکن سچ کہوں تو ان 30 سالوں میں میں راستہ تلاش کر رہا تھا، منزل نہیں۔
میں کام تو بہت کر رہا تھا، مگر ویژن اور ڈائریکشن واضح نہیں تھی۔ پھر ایک دن فیصلہ کیا کہ اب رکنا نہیں، سیکھنا ہے۔
ریسرچ کی، دنیا دیکھی، اور تب جا کر سمجھ آیا کہ مسئلہ صلاحیت یا محنت میں نہیں — ڈائریکشن میں ہے۔
جب انسان کی ڈائریکشن سیدھی ہو جاتی ہے، تو جو سفر سالوں میں طے ہونا تھا، وہ گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے۔
میں نے بھی یہی محسوس کیا۔ جب سمت درست ہوئی تو راستہ خود بخود کھلنے لگا۔
ہاں، مشکلات بہت آئیں۔ کئی بار حوصلہ ٹوٹنے کے قریب پہنچا، مگر مستقل مزاجی نے سہارا دیا۔
میں نے خود کو بھی اپڈیٹ کیا، اور اپنے سسٹم کو بھی۔ کیونکہ وقت کے ساتھ بدلنا ضروری ہے — جو رکتا ہے، وہ پیچھے
رہ جاتا ہے۔
سب سے مشکل مرحلہ آیا ٹیم بنانے کا۔
ایسی ٹیم جو صرف کام نہ کرے بلکہ ٹرسٹ پر کھڑی ہو۔
میں نے سیکھا کہ جتنا بڑا رسک لوگو گے، اتنا ہی بڑا سبق ملے گا۔
اور جتنے لوگ تم سے ملیں گے، کوئی بھی ضائع نہیں جائے گا — ہر شخص تمہیں کچھ نہ کچھ سکھا کر ضرور جائے گا۔