NAVID LIBRARYNavid Jamil اقوالِ زر
BOOK 07 · PAGE 01

خود شناسی اور اندرونی طاقت

جب آپ اپنے اندر کی طاقت کو پہچان لیتے ہیں، تو دنیا کی ہر مشکل صرف ایک موقع بن جاتی ہے۔

— نوید

زندگی کا اصل سکون تب ملتا ہے جب آپ خود کے فیصلوں کے مالک بن جائیں، نہ کہ دوسروں کے نظریات کے غلام۔

— نوید

ہر انسان کے اندر ایک خاص روشنی چھپی ہوتی ہے، بس اسے پہچاننے اور روشنی دینے کی دیر ہے۔

— نوید

غلطیاں کرنے سے نہ ڈریں، وہ آپ کے سب سے بڑے استاد ہیں، جو آپ کو اپنی اصل طاقت سے ملاتے ہیں۔

— نوید

خوف صرف ایک پردہ ہے، جو ہٹا کر آپ اپنی حقیقت کی روشنی دیکھ سکتے ہیں۔

— نوید

خود پر یقین کرنا سب سے پہلا اور سب سے بڑا قدم ہے جو آپ اپنی زندگی میں اٹھا سکتے ہیں۔

— نوید

کامیابی صرف وہ نہیں جو حاصل کرے، بلکہ وہ جو اپنے اندر کی کمزوریوں پر قابو پا کر بڑھتا جائے۔

— نوید

ہر درد، ہر ناکامی آپ کے اندر ایک چھپی ہوئی سنہری طاقت کو جگانے کا موقع ہے۔

— نوید

جب میں نے خود کو پہچانا، تو میں نے اپنے سے بہتر کسی کو پایا ہی نہیں۔

— نوید

کاش انسان اپنے آپ کو سمجھ لے، پھر اسے معلوم ہو جائے کہ وہ حقیقت میں کیا ہے۔

— نوید

"یہ کہنا کہ 'مجھ جیسا کوئی نہیں' — غرور نہیں، ایک حقیقت کا اعتراف ہے۔ میں نے سیکھا ہے کہ ہر انسان ایک الگ کائنات ہے، جس کا راستہ، جس کی صلاحیت اور جس کی کہانی منفرد ہے۔ میں نے خود کو کسی سے برتر ثابت کرنے کی دوڑ سے نکل کر، خود کو 'سمجھنے' کا سفر چنا ہے۔ اپنی کمزوریوں کو گلے لگانا اور اپنی طاقت کو پہچان لینا — یہی خود شناسی ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ جب انسان خود سے مل لیتا ہے، تو اسے کسی اور سے خود کو منوانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اصل طاقت خود کو پہچان لینے میں ہی ہے۔

— نوید

پہلے ہمیں اپنے خاص ہونے کا احساس ہی نہ تھا، ہم خود کو عام سمجھ کر جیتے رہے۔ پھر ایک دن ہمیں یہ ادراک ہوا کہ ہم عام نہیں… خاص ہیں۔ اس احساس نے ہمیں اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کیا، اور تب ہم نے جانا کہ ہماری اصل پہچان ہماری 'خصوصیات' میں ہے۔ جب ہم خود کو سمجھنے لگے، تو ہم نے اُسے بھی سمجھنا شروع کیا جو ہمارے لیے خاص تھا۔ اب ہم 'خاص' اور 'خصوصیات' کا فرق جان چکے تھے، ہم نے اس کی اہمیت کو بھی پہچانا اور اپنی قدر کو بھی۔ مگر شاید یہی وہ مقام تھا جہاں فاصلے بڑھنے لگے۔ ہم نے خود کو سنبھالا، اپنی پہچان کو تھاما، اور اپنے اردگرد ایک دائرہ بنا لیا۔ اب اس دائرے میں ہر کوئی داخل نہیں ہو سکتا، صرف وہی آ سکتا ہے جو ہماری خاصیت کو سمجھے، اور ہماری قدر کو پہچانے۔

1 / 13 · NAVID LIBRARY
BOOK 07 · PAGE 02

یقین، مخالفت اور ناممکن

مخالفت منفرد ہونے کی پہلی دلیل ہے۔ جب اکثریت کہے 'نہیں'، تو سمجھ لو کہ تم نے وہ چھو لیا جو صرف چند کو ملتا ہے۔

— نوید

جب کوئی کہے 'یہ نہیں ہو سکتا'، تو مسکرا کر کہیں: 'بالکل ٹھیک کہا آپ نے، آپ کے لیے نہیں ہو سکتا۔ میرے لیے؟ یہ تو بس شروعات ہے۔'

— نوید

دوسروں کی طرح جینا سب سے بڑی موت ہے۔ اپنی طرح جینا ہی حقیقی زندگی ہے۔

— نوید

'ناممکن' مجھے غصہ دلاتا ہے۔

— نوید

ناممکن صرف ایک رائے ہے، حقیقت نہیں۔

— نوید

پہلے لوگ ہنستے ہیں، پھر وہ سوچتے ہیں، پھر وہ آپ میں شامل ہو جاتے ہیں۔

— نوید

مجھے ناممکن کو ممکن بنانے میں مزہ آتا ہے۔

— نوید

جس نے وہ چیز کبھی دیکھی یا کی نہیں ہوتی، وہ اسے ناممکن سمجھ لیتا ہے۔

— نوید

انسان خود کو ہمیشہ یہ کیوں سمجھ لیتا ہے کہ میں نہیں کر سکتا؟ جبکہ سوچ یہ ہونی چاہیے کہ میں کیوں نہیں کر سکتا؟ کیونکہ فرق صلاحیت میں نہیں، بلکہ یقین اور سوچ میں ہوتا ہے۔ جو انسان اپنے اندر امکان پیدا کر لیتا ہے، وہی ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔

— نوید

جیب خالی ہو اور حالات کی دلدل جتنا بھی جکڑ لے، جس کا جنون سچا ہو وہ اپنا کام نہیں روکتا۔ جب شوق بھوک سے بڑا ہو جائے، تو دنیا کی کوئی بیڑی انسان کو جھکا نہیں سکتی۔

— نوید

2 / 13 · NAVID LIBRARY
BOOK 07 · PAGE 03

مقصد اور کامیابی کی اصل تعریف

1۔ تم نے علم سیکھا، سکل بنائی، نوکری پکڑی، شادی کی، گھر لیا، بچے پالے۔ اب بتاؤ، تم نے وہ کیا کیا جو تمہارے بغیر نہ ہو سکتا تھا؟

2۔ زندگی کا مقصد صرف یہ نہیں کہ تم کتنا کما سکتے ہو، بلکہ یہ کہ تم کتنا بدل سکتے ہو۔ اپنے آپ کو، اپنے گھر کو، اپنے وقت کو۔ ورنہ تم صرف ایک مشین تھے جو تھوڑی دیر چلی۔

3۔ تم مر جاؤ گے، یقیناً۔ سوال یہ ہے: تمہارے مرنے کے بعد وہ کون سا نظام چل رہا ہو گا جو تم نے شروع کیا تھا؟ اگر جواب کچھ نہیں، تو تم زندہ تھے، مگر کبھی جیے نہیں۔

4۔ زندگی کے آخر پر کوئی تمہاری تنخواہ نہیں دیکھے گا، کوئی تمہارا ٹائٹل نہیں پوچھے گا۔ صرف یہ پوچھے گا: تم نے کس کی زندگی بدلی؟

5۔ مقصد یہ نہیں کہ تم کیا بن گئے، مقصد یہ ہے کہ تم نے کیا بنا دیا۔

6۔ تمہاری سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ تم نے کتنا کمایا، بلکہ یہ کہ تمہارے جانے کے بعد کتنے لوگ تمہارے راستے پر چل پڑے۔

7۔ زندگی کا مقصد دوپہر کا سورج نہیں، جو چمک کر ڈوب جائے۔ مقصد تو وہ شمع ہے جو جلا کر سینکڑوں شمعیں روشن کر دے۔

8۔ تم اپنی قبر میں لیٹے سوچو گے: 'میں نے وہ سب کیا جو سب کرتے ہیں۔' یا یہ سوچو گے: 'میں نے وہ کیا جو کوئی نہ کر سکا۔' فیصلہ آج کا ہے۔

9۔ مقصد یہ نہیں کہ تم کتنے عرصے جیے، مقصد یہ ہے کہ تم نے کیسے جیے، اپنے لیے یا کسی اور کے لیے۔ فرق صرف ایک لفظ کا ہے: 'میں' یا 'ہم'۔

10۔ زندگی کا اصل مقصد؟ اتنا بڑا نظام چھوڑ جانا کہ دنیا کہے: یہ وہ شخص تھا جس نے ہم سب کو بدل دیا۔

— نوید

3 / 13 · NAVID LIBRARY
BOOK 07 · PAGE 04

علم، سکل اور بزنس کا فلسفہ

علم اور سکل تو وہ پتھر ہیں، جو بغیر ڈائریکشن کے اٹھائے پھرو، تو بوجھ ہیں۔

— نوید

بزنس وہاں شروع ہوتا ہے جہاں آپ اپنا علم بیچنا چھوڑ کر دوسروں کا مسئلہ حل کرنا شروع کرتے ہیں۔

— نوید

سکل بیچنا ملازمت ہے، مسئلہ حل کرنا بزنس ہے۔ فرق سمجھ لو۔

— نوید

ایک انسان جب اپنی سکل بیچنا شروع کرتا ہے، تو وہ بزنس کرنا چھوڑ کر اپنی ہی قید شروع کر دیتا ہے۔

— نوید

آپ کا علم آپ کی دولت نہیں، آپ کا مسئلہ حل کرنے کا طریقہ آپ کی دولت ہے۔

— نوید

تم نے اپنا علم بیچ کر اتنی دولت کما لی کہ اب تمہیں اپنی غلامی کی قیمت بھی یاد نہیں۔

— نوید

میں ایسی چیز نہیں بنانا چاہتا جسے لوگ خریدیں؛ میں ایسا سسٹم بنانا چاہتا ہوں جس کا حصہ بننے کی لوگ آرزو کریں۔

— نوید

اپنے آپ کو ایسا بنا لو کہ لوگ تمہیں دیکھ کر کہیں: 'ہمیں بھی نوید جیسا بننا ہے۔'

— نوید

میں ایسا سسٹم بنا کر جاؤں گا کہ لوگ کہیں گے: کاش ہمیں بھی نوید کے سسٹم کا حصہ بننے کا موقع ملے۔

— نوید

تفصیلی تشریح: 'غلامی کی قیمت'

یہ قول سادہ لگتا ہے لیکن اس کی گہرائی میں انسان کے شعور، دولت اور غلامی کا ایک المیہ چھپا ہے۔

پہلی سطر 'تم نے اپنا علم بیچ کر' — یہاں 'بیچنا' سے مراد محض پیسے لے کر علم دینا نہیں، بلکہ اپنے علم کو ایک ایسی مشین کا پرزہ بنا دینا جو کسی اور کے کاروبار کو چلاتی ہے۔ آپ نے اپنی سوچ، تخلیق، اور فیصلہ سازی کی طاقت کسی اور کے سپرد کر دی۔ آپ ایک فریم ورک میں قید ہو گئے جو آپ کا اپنا نہیں۔ آپ نے اپنے علم کو ایک 'پروڈکٹ' بنا لیا، 'وژن' نہیں۔

دوسری سطر 'اتنی دولت کما لی' — یہ اصل المیہ ہے۔ آپ نے مادی طور پر بہت کچھ حاصل کر لیا: گھر، گاڑی، بینک بیلنس، حیثیت، نام۔ لوگ آپ کو کامیاب کہتے ہیں، آپ خود کو آزاد سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ دولت ایک سنہری پنجرہ ہے — اندر سے مہنگا، باہر سے خوبصورت، لیکن پنجرہ ہی پنجرہ۔ آپ نے دولت تو کما لی، مگر ملکیت نہیں کھڑی کی۔

تیسری سطر 'اب تمہیں اپنی غلامی کی قیمت بھی یاد نہیں' — یہ سب سے تیز اور ڈراؤنا وار ہے۔ غلامی کی قیمت وہ سب کچھ ہے جو آپ نے کھویا: اپنی مرضی کا وقت، اپنی سوچ کی آزادی، 'نہ' کہنے کی طاقت، بغیر وجہ بتائے چھٹی لینے کا حق، اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی گنجائش، اپنی شرائط پر جینے کا اختیار۔ 'یاد نہیں' کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو پتہ ہی نہیں کہ آپ غلام ہیں۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب غلام کو اپنی غلامی کا پتہ ہی نہ ہو، تو وہ آزادی کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا۔ وہ مطمئن ہے، اور مطمئن غلام سب سے خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ وہ کبھی بغاوت نہیں کرے گا۔

ایک ڈاکٹر جو اپنی تمام زندگی ایک ہسپتال میں نوکری کرتا ہے، خوب پیسے کماتا ہے، شہرت رکھتا ہے، لیکن کبھی اپنا کلینک نہیں کھول پاتا۔ وہ کہے گا 'میرے پاس سب کچھ ہے، میں کامیاب ہوں' — لیکن حقیقت میں اس نے اپنا علم، وقت اور فیصلے ہسپتال کے مالک کو بیچ دیے۔ اسے اپنی غلامی کی قیمت بھی یاد نہیں کیونکہ وہ کبھی باہر نکلا ہی نہیں۔

یہ قول رونگٹے کھڑے کرتا ہے کیونکہ یہ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کی کہانی ہے۔ ہم نے خوب کمایا، لیکن کہیں نہ کہیں اپنی مالکیت کھو دی، اور اب ہمیں احساس بھی نہیں کہ ہم نے کیا کھویا۔ یہ قول صرف ایک قول نہیں، یہ ایک آئینہ ہے۔ جو دیکھنا چاہے وہ اپنا عکس دیکھ لے، جو آنکھیں بند کر لے، وہ جلتا رہے گا۔

4 / 13 · NAVID LIBRARY
BOOK 07 · PAGE 05

اتحاد اور نظام سازی کا سفر

ہر کمیونٹی میں مکمل اتحاد نہیں ہوتا، اختلاف رائے لازمی ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اکثریت کس طرف ہے، فیصلہ عموماً وہی رخ طے کرتی ہے۔

اتحاد خودبخود نہیں بنتا، اس کے لیے واضح نظریہ، مضبوط منصوبہ بندی اور عملی قدم ضروری ہوتے ہیں۔

جب نظریہ واضح ہو اور اس پر مستقل مزاجی سے عمل ہو، تب ہی لوگ ایک مقصد پر جمع ہوتے ہیں اور مضبوط اتحاد جنم لیتا ہے۔

لیکن اتحاد کو قائم رکھنا صرف ابتدا کا کام نہیں، بلکہ اسے برقرار رکھنے کے لیے برداشت، مشاورت اور باہمی اعتماد ضروری ہوتا ہے۔ جب لوگ ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر اجتماعی بھلائی کو ترجیح دیتے ہیں تو اتحاد مضبوط اور دیرپا بنتا ہے۔

جب اتحاد مضبوط ہو جائے تو پھر اس کی طاقت کو مثبت سمت میں استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔ واضح اہداف مقرر کیے جاتے ہیں، ذمہ داریاں تقسیم کی جاتی ہیں اور اجتماعی کوشش کو نتیجے میں بدلا جاتا ہے۔

کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھی رک جانا دانشمندی نہیں۔ ہر مرحلے پر جائزہ، اصلاح اور احتساب ضروری ہوتا ہے تاکہ اتحاد کمزور نہ ہو اور مقصد واضح رہے۔ مستقل مزاجی اور دیانت ہی کسی بھی اجتماعی کوشش کو پائیدار بناتی ہے۔

جب اتحاد تسلسل، احتساب اور دیانت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو وہ ایک مضبوط روایت اور مستحکم نظام کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پھر وہ صرف افراد کا مجموعہ نہیں رہتا بلکہ ایک سوچ، ایک ثقافت اور ایک طاقتور شناخت بن جاتا ہے جو آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔

آخرکار اتحاد کا اصل مقصد صرف جمع ہونا نہیں بلکہ مثبت تبدیلی لانا ہے۔ جب مقصد حاصل ہو جائے اور معاشرے میں بہتری دکھائی دینے لگے، وہیں یہ فکری سفر اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا ہے۔

(یہ سلسلہ جاری ہے — مزید اقساط شامل کی جا سکتی ہیں)

5 / 13 · NAVID LIBRARY
BOOK 07 · PAGE 06

زخم، تنہائی اور خاموشی

تم جس چیز کو اتنی مضبوطی سے تھامے ہو، شاید وہی تمہیں ڈوبنے سے بچا نہیں رہی، بلکہ ڈوبنے کا سبب بن رہی ہے۔ چھوڑنے کی ہمت رکھو۔

— نوید

تمہارے زخم تم سے بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن تم مصروف ہو ان پر مرہم رکھنے میں۔ کبھی سنو بھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

— نوید

سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ تمہیں لگتا ہے تمہارے پاس وقت ہے۔

— نوید

تم نے لوگوں کو خوش کرنے میں اپنا وجود کھو دیا۔ اب تمہیں کوئی پہچانتا بھی نہیں، خود تم بھی نہیں۔

— نوید

وہ درد جو تم چھپا رہے ہو، ایک دن تمہاری آنکھوں سے نکلے بغیر نہیں رہے گا۔ اسے آج ہی رونے دو۔

— نوید

تمہاری سب سے بڑی غلطی یہ نہیں جو تم نے کی، بلکہ جو تم نے کی ہی نہیں خوف کی وجہ سے۔

— نوید

تنہائی کوئی لعنت نہیں، آئینہ ہے۔ لیکن تم آئینے سے ڈرتے ہو کیونکہ تم نے خود کو دیکھنا چھوڑ دیا۔

— نوید

آپ کا وقت محدود ہے، اسے کسی اور کی زندگی جینے میں ضائع نہ کریں۔

— نوید

6 / 13 · NAVID LIBRARY
BOOK 07 · PAGE 07

الفاظ، لہجہ اور تخلیق

الفاظ تو صرف جسم ہوتے ہیں، آپ کی آواز کا لہجہ، اس کی رفتار، اور آپ کے چہرے کے تاثرات اس جسم کے اندر روح پھونکتے ہیں۔ ایک ہی لفظ کو جب آپ غصے سے بولتے ہیں تو وہ 'حملہ' لگتا ہے، اور جب درد سے بولتے ہیں تو وہ 'احساس' بن جاتا ہے۔

— نوید

تخلیق کا مطلب کچھ نیا دیکھنا نہیں، بلکہ اسی پرانی دنیا کو ایک بالکل نئے اور اچھوتے زاویے سے دیکھنا ہے۔

— نوید

تخلیق اور ٹیکنالوجی کی آخری حد وہ نہیں جو دنیا دیکھ چکی ہے، بلکہ وہ ہے جو ابھی صرف آپ کے دماغ میں ہے۔ اپنے ذہن کو اتنا وسیع کر لو کہ لوگ حیرت سے پوچھیں: 'یہ وہاں کیسے پہنچا جہاں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا؟'

— نوید

7 / 13 · NAVID LIBRARY
BOOK 07 · PAGE 08

ذہنی بلندی اور قیادت

اپنے ذہن کو اُس حد تک بلند کرو کہ لوگ تمہارے کام کو دیکھ کر پوچھیں: یہ انسان سوچتا کیسے ہے؟

— نوید

ڈگریاں صرف دیواروں کی زینت ہوتی ہیں، انسان کی اصل قیمت اس کے ہنر اور اس کی عملی سوچ سے طے ہوتی ہے۔

— نوید

مشکلات راستے کی رکاوٹ نہیں، بلکہ یہ وہ تراشنے والے اوزار ہیں جو ایک عام انسان کو نایاب ہیرا بنا دیتے ہیں۔

— نوید

جذبات میں آ کر لیے گئے فیصلے عارضی ہوتے ہیں، لیکن حکمتِ عملی اور ڈسپلن سے بنے ہوئے نظام نسلوں تک چلتے ہیں۔

— نوید

جب سوچ کائنات کی وسعتوں کو چھو لے، تو الفاظ خاموش ہو جاتے ہیں اور فیصلے بولنے لگتے ہیں۔ ذہن کا کمال یہ نہیں کہ وہ دنیا کو دیکھے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس سچائی کو پا لے جسے دنیا ابھی دیکھ ہی نہیں سکی۔

— نوید

عام آنکھیں صرف حال کا تماشا دیکھتی ہیں، جبکہ بصیرت کا حامل ذہن ماضی کے ملبے پر کھڑے ہو کر مستقبل کا نقشہ کھینچ دیتا ہے۔ قیادت نام ہی مٹی کو پارس اور وقت کو اپنا غلام بنانے کا ہے۔

— نوید

8 / 13 · NAVID LIBRARY
BOOK 07 · PAGE 09

محبت اور سماجی جبر

کائنات کے سارے قوانین جہاں دو دلوں کو ملانے کی گواہی دے رہے ہوں، وہاں اگر خاندانی اور معاشرتی جبر جیت جائے، تو وہ کمپرومائز نہیں بلکہ جذباتی خودکشی ہوتی ہے۔

— نوید

محبت کی فزکس، کیمسٹری اور بائیو کا سو فیصد مکمل ہونا بھی بعض اوقات معاشرے کی فرسودہ انا کے سامنے ہار جاتا ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ منزلیں جدا ہو گئیں، المیہ یہ ہے کہ سب کچھ پانے کے باوجود ہم رسم و رواج کی قید میں خالی ہاتھ رہ گئے۔

— نوید

جب دو انسان ہر معیار پر ایک دوسرے کے لیے مکمل ہوں، تو خاندان اور معاشرے کی خاطر پیچھے ہٹ جانا کوئی قابلِ فخر روایت نہیں، بلکہ ایک ایسی مصلحت ہے جو آنے والی نسلوں کو بھی ادھورا کر دیتی ہے۔

— نوید

9 / 13 · NAVID LIBRARY
BOOK 07 · PAGE 10

مالی غلامی، قربانی اور خاندان

کتنی سستی ہے وہ محبت جو چند ٹکڑوں کی خاطر اپنے بچوں کے خواب اور بیوی کے ارمان بھی نیلام کر دیتی ہے۔ انسان جب خود کو قسطوں میں بیچتا ہے، تو سودے کے کاغذات پر دستخط اس کے ہوتے ہیں، لیکن عمر بھر کی غلامی اس کی نسلیں بھگتتی ہیں۔

— نوید

کتنی دردناک ہے وہ زندگی جہاں ایک انسان اپنی قیمت خود طے کرنے سے ڈرتا ہے۔ وہ دوسروں کے دیے ہوئے ٹکڑوں پر اپنا خون نچوڑتا ہے اور پھر ایک سستا سا پنجرہ بنا کر، اس میں اپنی بیوی کے ارمان اور بچوں کی اڑان قید کر دیتا ہے۔ وہ اپنے خاندان کا پیٹ تو بھر دیتا ہے، لیکن ان کی روح مار کر مرتا ہے۔

— نوید

مرد کی سب سے بڑی ہار یہ ہے کہ وہ چند ٹکڑوں کی خاطر پوری زندگی کے لیے بک جاتا ہے، اور اسی کمائی سے اپنی بیوی کی حسرتوں کا کفن خریدتا ہے اور اپنے بچوں کی گردن میں غلامی کا طوق ڈال دیتا ہے۔ وہ قسطوں میں اپنی نسلیں بیچتا ہے، اور اس خاموش قتلِ عام کو 'خاندان کی پرورش' کا نام دے کر سکون سے قبر میں اتر جاتا ہے۔

— نوید

انسان کی انا بھی کتنی منافق ہے! یہ اپنوں اور کمزوروں کے سامنے تو فرعون بن کر کھڑی ہوتی ہے، لیکن جیسے ہی سامنے چند کروڑ کا آقا یا نوکری کے ٹکڑے آئیں، یہ انا دم دبا کر سجدے میں گر جاتی ہے۔ جو انسان اپنے حق کی آزادی کے لیے اپنی اس جھوٹی انا کو غیرت میں نہیں بدل سکتا، وہ عمر بھر زنجیروں میں جکڑا ایک معذور قیدی ہے۔

— نوید

10 / 13 · NAVID LIBRARY
BOOK 07 · PAGE 11

یاد اور انتظار — ایک نظم

محبت ایک ایسا درد ہے، جو جینے بھی نہیں دیتا، اور مرنے بھی نہیں دیتا۔

ہم اُن کے بنا رہ نہیں پاتے، اور وہ ہمارے ہو نہیں پاتے۔

جس کے لیے ہم نے دنیا کو ایک طرف کر دیا، آج وہی ہمارے ایک پکارنے پر بھی نہیں آتا۔

یادوں کا یہ عالم ہے کہ چین نہیں آتا، ان کے سوا اب ہمیں کچھ اور نظر نہیں آتا۔

یہ کیسا درد ہے جو رگوں میں بس گیا، کہ اب دل کو بھی یہی درد پسند ہے۔

اگر وہ ہماری زندگی میں نہ آتے، ہم یوں لفظوں میں درد نہ ڈھونڈتے۔

محبت میں سنا ہے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، پھر یہ فاصلے، یہ خاموشیاں کہاں سے آتی ہیں؟

یہ بھی کیا کمال ہے اُن کا، کہ راز سب دل کے جانتے ہیں، پھر بھی انجان سے رہتے ہیں۔

ہم ہر صبح امید کے چراغ جلاتے ہیں، کہ وہ آج بھی ہوں، اور آج بھی آ جائیں۔

ہر دن بس یوں ہی گزر جاتا ہے، اُن کی یاد کے ساتھ۔

وہی ہمارا پیار ہے، سمجھے یا نہ سمجھیں۔

اب ہر قلم کی سمت بھی وہی ہے، جو لکھتا ہے وہی بس اُسی کو لکھتا ہے۔

آپ آئے تو لفظ بکھرے ہوئے تھے، پھر انہیں سنوارا گیا، تراشا گیا۔

آج عجیب حال ہے لفظوں کا، جو بھی کہتا ہوں وہ شعر بن جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں محبت ہے کیا ہم سے؟ ہم مسکرا کر کہتے ہیں، کب نہیں ہوئی؟

وہ یہ گمان لیے بیٹھا ہے کہ ہم اس سے محبت نہیں کرتے، پھر بھی وہ کیسے یہ سوچ لیتا ہے۔

— نوید

11 / 13 · NAVID LIBRARY
BOOK 07 · PAGE 12

نمایاں اقوال

کردار ایسا بناؤ کہ تمہاری موجودگی عزت بن جائے، اور تمہاری غیر موجودگی ایک کمی محسوس ہو۔ لوگ تمہیں یاد نہ کریں، بلکہ تمہیں محسوس کریں۔

— نوید جمیل

زندگی اگر بے مقصد گزر رہی ہو، نہ سیکھا جائے، نہ سوچا جائے، نہ خود کو پہچانا جائے، تو یہ جینا نہیں، صرف وقت گزارنا ہے۔ جاگو، سیکھو، اور اپنے اندر انقلاب لاؤ۔ کیونکہ تم ایک مقصد کے لیے پیدا ہوئے ہو۔

— نوید جمیل

کردار ایسا ہو تمہارا کہ جب تم جاؤ تو کوئی زندہ نہ رہ پائے۔

— نوید

12 / 13 · NAVID LIBRARY
BOOK 07 · PAGE 13

مختصر جامع اقوال

حالات نہیں، فیصلہ انسان کو بناتا ہے۔

زیرو پر آنا ہار نہیں، نئی شروعات ہے۔

سکل سیکھنا سب سے بڑی طاقت ہے۔

حلال راستہ برکت دیتا ہے۔

رسک کے بغیر کچھ بڑا نہیں ہوتا۔

مستقل مزاجی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔

جس کو دوبارہ اٹھنا آ گیا، اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا۔

— نوید

زندگی کا اصل مزہ تب آتا ہے جب آپ بھیڑ کا حصہ نہیں بنتے، بلکہ اپنی سوچ کو منفرد بنا کر کچھ ایسا کر جاتے ہیں جو دنیا کے لیے مثال بن جائے۔

— نوید

مجھے زندگی بھر یہ بات اندر سے کھاتی رہے گی کہ میں بھی اسی دنیا میں تھا جہاں انسانوں نے ناممکن کو ممکن بنایا، ایجادیں کیں، دنیا بدل دی۔ پھر میں کیوں نہیں کر سکا؟ اگر میں نے اپنے اندر کی صلاحیت کو پہچان کر کچھ بڑا نہ کیا، تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کر سکوں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں، وہ بھی انسان تھے، اور میں بھی انسان ہوں۔

— نوید

انسان اس دن مر جاتا ہے جب وہ اپنی اصل صلاحیت کو پہچاننے سے بھاگ جاتا ہے، جب وہ خود کو کم مان لیتا ہے، ہار مان لیتا ہے، اور اپنے اندر چھپی طاقت کو دفن کر دیتا ہے۔ اصل موت وہی ہے، سانسیں تو صرف چلتی رہتی ہیں۔

— نوید

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں؛ ایک وہ جو صرف اپنی ضروریات پوری کرنے میں زندگی گزار دیتے ہیں، اور دوسرے وہ جو ایک ایسا سسٹم بنا جاتے ہیں جو آنے والی نسلوں کی زندگی بدل دیتا ہے۔

— نوید

جب میں نے اپنا مقصد پہچان لیا، اپنی صلاحیت کو جان لیا، اس دن سے ناکامی نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ میں چل پڑا ہوں اپنے یقین کے ساتھ، اپنے خوابوں کی راہ پر۔ اب ہر قدم پر روشنی ہے، اندھیرا مجھ سے روٹھ گیا۔ نہ خوف ہے، نہ شکست کا گمان، بس ایک یقین ہے دل کے اندر۔ جو خود کو سمجھ لے وہی انسان، زمانے کو بدل گیا۔

— نوید

میں دنیا بدلنے نکلا ہوں، ان شاء اللہ اپنی زندگی سے ایک نئی تاریخ رقم کر کے جاؤں گا۔ میں ثابت کروں گا کہ ایک عام انسان بھی غیر معمولی کارنامے انجام دے سکتا ہے۔ میرے الفاظ اتنے طاقتور ہونے چاہئیں کہ سب سے پہلے وہ مجھے خود اٹھائیں، مجھے خود مضبوط کریں، اور مجھے اپنی منزل سے کبھی بھٹکنے نہ دیں۔ ایسے الفاظ جو مجھے یاد دلائیں کہ میری سب سے بڑی طاقت دوسروں کی آواز نہیں، بلکہ میری اپنی آواز ہے۔ جس دن انسان خود کو سمجھ لیتا ہے، اسی دن وہ دنیا کو بدلنے کی طاقت حاصل کر لیتا ہے۔

— نوید

اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا نائب بنایا، یہ کوئی معمولی اعلان نہیں۔ یہ انسان کے اندر چھپی اُس طاقت کا اعلان ہے، جو اندھیروں سے نکل کر زمانے بدل سکتی ہے۔ انسان مٹی سے ضرور بنا ہے، مگر اس کے اندر سوچ آسمانوں سے بلند رکھی گئی ہے۔ وہ جب اپنے رب پر یقین کر لے، تو پھر حالات نہیں دیکھتا، تاریخ بدل دیتا ہے۔

— نوید

اگر ہر انسان دوسروں کی غلطیوں کا حساب رکھنے بیٹھ جائے، تو دنیا میں کوئی رشتہ سلامت نہ رہے۔ تعلق نبھانے کے لیے خامیوں کو نہیں، ارادوں کو دیکھا جاتا ہے۔

— نوید

ناکامی میری استاد بنی، تب جا کر مجھے کامیابی سمجھ آئی۔

— نوید

جو ہمیں توڑتا ہے، وہی ہمیں مضبوط بھی بناتا ہے۔

— نوید

زندگی میں کچھ لوگ ایسے آتے ہیں جن سے لگاؤ ہمیں خود سے بھی دور کر دیتا ہے۔ ہم ٹوٹتے ہیں، بکھرتے ہیں، خود کو کھو دیتے ہیں، مگر پھر ایک وقت آتا ہے جب ہم سنبھل جاتے ہیں، اور وہی تکلیف ہمیں مضبوط بنا دیتی ہے۔

— نوید

انسانیت کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے بہتر مثال بن سکے، نہ کہ صرف خود کے لیے جئے۔

— نوید

جب آپ اپنے مقصد کو جان لیتے ہیں، تو ہر دن ایک قدم زیادہ آپ کو اُس منزل کے قریب لے جاتا ہے جو صرف آپ کے لیے لکھی گئی ہے۔

— نوید

رسک لینے سے کبھی نہ گھبرائیں، کیونکہ جو کچھ آپ کھو سکتے ہیں، اُس کے مقابلے میں آپ جو حاصل کریں گے، وہ آپ کی زندگی بدل دے گا۔

— نوید

جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں، وہی اپنی تقدیر کے سازگار لمحے پیدا کرتے ہیں۔

— نوید

آپ کی سوچ جتنی بلند ہوگی، آپ کے خواب اتنے ہی حقیقت کے قریب آئیں گے۔

— نوید

جو راستہ مشکل لگے، وہی آپ کو اپنی اصل منزل کے قریب لے جاتا ہے۔

— نوید

زندگی کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ ہر دن آپ کو نئے امکانات اور نئے انتخاب دیتا ہے۔

— نوید

جب مقصد بڑا ہو، تو حساب کتاب نہیں دیکھا جاتا۔

— نوید

جب تک کام ہو نہ جائے، وہ ناممکن لگتا ہے۔

— نوید

اگر آپ نے اپنے خواب کو حقیقت بنانے کا فیصلہ کر لیا، تو دنیا کی ہر رکاوٹ آپ کے لیے صرف ایک پل ہے، نہ کہ دیوار۔

— نوید

13 / 13 · NAVID LIBRARY